خطبات محمود (جلد 18) — Page 221
خطبات محمود ۲۲۱ سال ۱۹۳۷ء اخلاق فاضلہ بچوں کے اندر قائم کئے جائیں جو ماں باپ قائم نہیں کر سکتے۔مگر افسوس ہے کہ اس بورڈنگ کے افسروں نے ابھی تک تقسیم عمل کا فیصلہ ہی نہیں کیا اور وہ ابھی انہی باتوں میں پڑے ہوئے ہیں کہ سپرنٹنڈنٹ کے فرائض کیا ہیں اور ٹیوٹروں کے کیا۔اصل کام کی طرف ابھی پوری توجہ نہیں ہوئی۔میری غرض اس بورڈنگ کے قیام سے یہ ہے کہ اسلامی اخلاق کی تفاصیل بچوں کو سمجھائی جائیں۔سچ کی تعریف بیان کرو۔سچ بولنے میں کیا کیا مشکلات پیش آسکتی ہیں اور پھر شریعت نے ان کے کیا کیا علاج رکھے ہیں۔یہ باتیں سکھائی جانی چاہئیں ورنہ صرف سچ بولنے کی تعلیم تو ہندو اور سکھ بھی دیتے ہیں۔اسی طرح سب کہتے ہیں کہ شرک نہ کرو۔مگر اسلام بتا تا ہے کہ شرک ہوتا کیا ہے ، وہ کیونکر پیدا ہوتا ہے، کیونکر ترقی کرتا ہے اور کون کون سی مشکلات میں طبیعت اسے قبول کرنے کی طرف مائل ہوتی ہے اور پھر اس کے علاج کیا ہیں۔جب اس طرح بچہ کے دل میں بات بٹھائی جائے تو وہ پھر نہیں نکل سکتی اور جب تک ہم اس طرح نہ کریں کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی۔پس اگر ہم موجودہ لوگوں اور آئندہ اولادوں کی درستی کر لیں تو ہمیشہ کیلئے اس قسم کے فتنوں کا رستہ بند ہوسکتا ہے۔ورنہ شکی طبائع کا وساوس کا شکار ہو جانے کا احتمال باقی رہے گا۔مثلاً میں نے سنا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مصری صاحب نے لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کی وعید کے ساتھ لکھا ہے کہ میں نے یہ بات نہیں لکھی اس لئے ان کا یہ قول صحیح ہوگا۔لیکن جب میر صاحب نے مصری صاحب کے الفاظ نقل کر کے لکھا اب کہو لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ تو وہ چپ ہو گئے اور ایسے لوگوں نے کہ دیا کہ یہ ٹھیک ہے۔گویا وہ خدا کے ساتھ نہیں لعنت کے ساتھ ہیں۔اگر ان کا معیار یہی رہے تو دنیا میں کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔دیکھنا تو یہ ہوتا ہے کہ یہ لعنت پڑتی کس پر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنے دشمنوں لعنتیں ڈالیں اور مخالفوں نے بھی تو اس صورت میں انہیں چاہئے کہ دونوں کی طرف ہو جائیں۔دیکھنے والی بات تو یہ ہوتی ہے کہ لعنت پڑی کس پر ہے۔لعنت ڈالنے کا کیا ہے۔کیا ابو جہل نے ی بدر کے دن نہیں کہا تھا کہ اے خدا! اگر محمد ﷺہ سچا ہے تو ہم پر پتھر برسا لے اور محمد ﷺ نے بھی کفار پر لعنت ڈالی۔اب دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ وہ کس پر پڑی۔تو بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں ایسی ہیں جو دوستوں کے ذہن نشین کرنی ضروری ہیں۔ہمارے اکثر دوست صرف چند مسائل سے واقف ہیں مگر ان کی تفاصیل نہیں جانتے۔پس اس موقع پر اس فتنہ کے متعلق میں بعض اصول بیان کروں گا۔اور علماء اور