خطبات محمود (جلد 18) — Page 22
خطبات محمود ۲۲ سال ۱۹۳۷ء اس کے کہ تحریک کچھ پیچھے ہوئی اور بوجہ اس کے کہ جلسے کا زور عین تحریک جدید کے زور کے زمانہ میں آیا، مردوں میں پورے طور پر اس تحریک کو مکمل نہیں کیا گیا اور عورتوں میں بھی اس وجہ سے کہ میری وہ بیوی جو لجنہ کی سیکرٹری ہیں بیمار ہیں اور کام نہیں کرسکیں ، گزشتہ سالوں کے مقابلہ میں بہت کم کام ہوا ہے۔اس لئے میں پھر دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ قادیان کی جماعت بیرونی جماعتوں کیلئے ایک نمونہ اور اُسوہ ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قادیان کی جماعت مالی تنگی کی وجہ سے اور تنخواہوں کے بر وقت نہ ملنے کی وجہ سے دوسروں سے زیادہ تکلیف اور ابتلاء میں ہے مگر وہ لوگ جو سلسلہ احمدیہ کے قیامت کی اہمیت کو سمجھتے اور قادیان کے وجود کی برکات جانتے ہیں ، وہ سمجھ سکتے ہیں کہ دینی خدمات کے لحاظ سے سب سے زیادہ ذمہ داری قادیان کے لوگوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔خانہ کعبہ کی حفاظت اور تطہیر ہر ایک مسلمان کے ذمہ ہے مگر قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اُس نسل کو خاص طور پر مخاطب کیا گیا ہے جو مکہ میں رہنے والی تھی اور اُسے کہا گیا کہ تمہارے لئے خانہ کعبہ کی تطہیر فرض مقرر کی جاتی ہے۔چنانچہ فرما یا ان طَهَرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ گو طائف یعنی جو مکہ میں طواف کرنے والے تھے ان کے لئے بھی خانہ کعبہ کی تطہیر ضروری تھی مگر خدا تعالیٰ نے خصوصیت سے اُن لوگوں کو مخاطب فرمایا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں سے مکہ میں رہتے تھے کیونکہ اُس وقت وہی نسل تھی دوسرے لوگ مکہ میں نہیں تھے۔اسی طرح جو لوگ قادیان میں رہتے ہیں یا کسی اور جگہ رہتے ہیں جس کو خدا تعالیٰ نے مقدس قرار دیا یا جہاں کے لوگوں نے دوسروں سے زیادہ ذمہ داری اُٹھائی ہوئی ہوتی ہے وہاں کے رہنے والوں پر دوسروں سے زیادہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔اور ان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ خواہ وہ بوجھ سے دوسروں سے زیادہ دبے ہوئے ہوں، پھر بھی وہ زیادہ قربانیاں کریں اور زیادہ ایثار کے نمونے دکھا ئیں۔پس میں تمام مساجد کے ائمہ، پریذیڈنٹوں اور کی سیکرٹریوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جلد سے جلد چندہ تحریک جدید کے متعلق اپنے حلقوں کی فہرستیں مکمل کر کے دفتر میں بھجوا دیں مگر اس کیلئے کسی پر جبر نہ کیا جائے بلکہ اُنہی لوگوں کا نام لکھا جائے جو خوشی سے اپنے نام پیش کریں۔میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اس تحریک میں دوسرے پر جبر کرنا جائز نہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ کسی کے ذمہ کوئی رقم مقرر کر دی جائے اور کہہ دیا جائے کہ اتنے روپوں کی ادائیگی اس پر فرض ہے۔پس وہ ان بغیر لوگوں کو مجبور کرنے کے اپنے اپنے حلقوں کی فہرستیں مکمل کر کے جلد سے جلد بھجوا دیں۔بعض محلوں نے ی