خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 198

خطبات محمود ۱۹۸ سال ۱۹۳۷ء طاقت انہیں نا کا م نہیں بنا سکتی۔غرض ہمارے لئے ہر جھگڑے کو دور کرنے کیلئے ایک چیز موجود ہے اور وہ خدا کا کلام ہے۔ہم میں آپس میں اختلاف ہو سکتا ہے، ہم میں آپس میں تفرقہ ہو سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کے کلام میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔پس جس کے ساتھ قرآن ہے وہ سچا ہے اور جس کے ساتھ قرآن نہیں وہ جھوٹا ہے۔اگر تمہارا میرے ساتھ تعلق ہے تو تم قرآن کی وجہ سے اور اگر میرا تمہارے ساتھ تعلق ہے تو قرآن کی وجہ ی سے اور اگر کوئی احمدی کہلا کر مقابلہ کیلئے نکلتا ہے تو قرآن کے ذریعہ ہی اس جھگڑے کا بھی فیصلہ ہوسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعویٰ کیا اُس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور آخری زمانہ میں امت محمدیہ کی اصلاح کیلئے کی تشریف لائیں گے۔میں نے بارہا سنایا ہے کہ لدھیانہ کے ایک مولوی صاحب تھے انہوں نے حج بھی کیا کی ہو ا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی ان کا تعلق تھا اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے بھی ملتے رہتے تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی پر زیادہ شور اُٹھا اور مولوی محمد حسین بٹالوی نے سخت مخالفت کرنی شروع کر دی تو انہوں نے خیال کیا کہ مرزا صاحب صوفی مزاج آدمی ہیں اور مولوی محمد حسین بٹالوی تیز طبیعت کے انسان ہیں۔مرزا صاحب نے صوفیانہ رنگ میں حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق کوئی بات کہی ہوگی جسے مولوی محمد حسین بٹالوی نے نہ سمجھا اور اس نے مخالفت شروع کر دی ورنہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ مرزا صاحب قرآن کریم کے خلاف بات کہہ دیں۔وہ بڑے نیک آدمی ہیں، قرآن کے خلاف کوئی بات نہیں کر سکتے مولوی محمد حسین کو ضرور کوئی غلطی لگی ہوگی۔چنانچہ اس کے بعد وہ قادیان آئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے اعلان کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں کی یہ درست ہے۔انہوں نے کہا آپ تو بزرگ آدمی ہیں کیا آپ کو معلوم نہیں کہ قرآن کریم کے خلاف کوئی بات کہنا سخت نا جائز ہے۔جب قرآن کریم سے حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی ثابت ہے تو آپ قرآن کے خلاف ان کی وفات پر کیوں زور دیتے ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اگر قرآن کریم سے حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات ثابت ہو جائے تو اور کیا چاہئے۔میں فوراً اپنے اس کی دعوی کو واپس لینے کیلئے تیار ہوں اور میں کہہ دوں گا کہ میرا عقیدہ غلط ہے، دراصل قرآن کریم سے یہی کی