خطبات محمود (جلد 18) — Page 160
خطبات محمود ١٦٠ سال ۱۹۳۷ء اور جب وہ انہی کے چٹے بٹے ہیں تو ان سے ہم سچائی کی توقع کس طرح رکھ سکتے ہیں ۔ پھر جس شخص کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اُس نے لیکھرام مُردہ باد کا نعرہ لگایا جب وہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں نے ایسا نعرہ نہیں لگایا تو اب اس کے بعد تصفیہ کی صورت یہی رہ جاتی ہے کہ پولیس والے قسم اُٹھا لیں کہ واقعہ میں لیکھرام مُردہ باد کا نعرہ لگایا گیا تھا پھر خدا خود فیصلہ کر دے گا کہ کس نے سچ بولا اور کس نے جھوٹ ۔ پولیس کی ڈائریوں کا تو یہ حال ہے کہ گزشتہ سالوں میں جب یہ الزام لگایا گیا کہ احمدی لیکچراروں نے ڈپٹی کمشنر کو حرامزادہ کہا ہے تو پولیس کے جس آدمی نے یہ رپورٹ کی تھی اُسے جب کہا گیا کہ ڈپٹی کمشنر چھوڑ کسی کو بھی کسی احمدی لیکچرار نے حرامزادہ نہیں کہا پھر تم نے ایسا کیوں لکھا ؟ تو وہ کہنے لگا یہ ایک راز کی بات ہے میں اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ پھر کم سے کم ہیں فیصلے ہائی کورٹ کے میں ایسے پیش کر سکتا ہوں جن میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ پولیس والوں نے جھوٹ بولا۔ پس ہم کہتے ہیں یہ الزام بالکل جھوٹا ہے ۔ جس پر یہ الزام لگایا جاتا ہے وہ قسم اور غلیظ قسم کھا کر اپنے کو بری ثابت کر چکا ہے۔ اور اگر یہ جھوٹی قسم ہے تو اس کے مقابلے میں دوسرا شخص جسے یہ یقین ہے کہ واقعہ میں لیکھر ام مردہ باد کا نعرہ لگایا گیا کیوں ایسی ہی قسم نہیں کھا لیتا۔ پھر یہ بھی تو غور کرنا چاہئے کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ کسی مخالف نے خود اس قسم کا نعرہ لگا دیا ہو تا کہ فتنہ پیدا ہو جائے ۔ پس قسمیہ طور پر اس بات کو بیان کر دینے کے بعد کہ لیکھر ام مردہ باد کا نعرہ نہیں لگایا گیا ہم اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتے کہ یہ الزام درست ہے۔ ہاں ہم یہ ضرور کہیں گے کہ اس موقع پر مرزا غلام احمد زندہ باد کہنا بھی فتنہ پیدا کرنے کا موجب تھا۔ ہماری جماعت بھی اپنے جلوسوں میں زندہ باد کے نعرے لگایا کرتی ہے۔ ایسے مواقع پر اگر مقابل کا فریق بھی نعرے لگانا شروع کر دے تو فساد ہو گا یا نہیں ۔ پس میں تو ہر گز نہیں سمجھتا کہ جس چیز کو ہم اپنے لئے جائز نہیں سمجھتے وہ دوسروں کیلئے جائز سمجھیں ۔ بحیثیت انسان ہونے کے ہندو بھی وہی حق رکھتے ہیں جو ہم رکھتے ہیں بلکہ سکھوں اور ہندوؤں کو جانے دو چوڑھوں کا بھی انسان ہونے کے لحاظ سے وہ حق ہے جو ایک مسلمان یا سکھ یا ہندو کا ہے ۔ اور ہمیں کوئی اختیار نہیں کہ ہم یہ کہیں کہ ہمیں تو فلاں حق حاصل ہے مگر ہندوؤں یا سکھوں یا چوڑھوں کو حاص حاصل نہیں ۔ جو حق ہمیں حاصل ہوگا وہ دوسروں کو بھی حاصل ہوگا اور جو بات ہمیں بُری معلوم ہوتی ہو ہم کو چاہئے کہ دوسرے کے حق میں بھی اس طرح نہ کریں ۔ آج ہی اگر میں ایک میٹنگ کر کے لوگوں کے سامنے یہ بات