خطبات محمود (جلد 18) — Page 155
خطبات محمود ۱۵۵ سال ۱۹۳۷ء کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے تو پھر یا تم دنیا سے مٹ جاؤ یا گالیاں دینے والوں کو مٹا ڈالو۔مگر ایک طرف تم جوش اور بہادری کا دعویٰ کرتے ہو اور دوسری طرف بُزدلی اور دون ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہو۔میں تو ایسے لوگوں کے متعلق بھی یہی کہتا ہوں کہ وہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دلواتے ہیں اور وہ آپ سلسلہ کے دشمن اور خطر ناک ہیں۔اگر کسی کو مارنا پیٹنا جائز ہوتا تو میں تو کہتا کہ ایسے لوگوں کو بازار میں کھڑا کر کے انہیں خوب پیٹنا ہئے کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ گالیاں دلواتے ہیں اور پھر مخلص اور احمدی کہلاتے پھرتے ہیں۔میں اس موقع پر ان لوگوں کو بھی جو انہیں اعلیٰ مخلص سمجھتے ہیں کہتا ہوں کہ مومن بیوقوف نہیں ہوتا۔کیا تم سمجھتے ہو کہ گالیاں دینا کوئی بہادری ہے؟ تم کسی چوہڑے کو دوروپے دے کر دیکھ لو وہ تم سے زیادہ گالیاں دے دے گا۔پس تم بھی اگر گالیاں دیتے ہو تو زیادہ سے زیادہ چوڑھوں والا کام کرتے ہو۔یہ کوئی ایسا پیچیدہ مسئلہ نہیں جو تمہیں سمجھ میں نہ آسکے۔مگر میں متواتر تین سال سے سمجھ رہا ہوں اور تم ابھی تک سمجھنے میں نہیں آتے۔میرے سامنے کوئی آٹھ دس برس کا بچہ لے آؤ، میں یہ باتیں اُس کے سامنے دُہرا دیتا ہوں تمہیں خود بخو د معلوم ہو جائے گا کہ وہ بچہ میری بات کو کتنی جلدی سمجھ لیتا ہے مگر کیا میرے تین سالہ خطبات بھی تمہیں میرے منشاء سے آگاہ نہیں کر سکے۔پس میں پھر ایک دفعہ کھول کھول کر بتا دیتا ہوں کہ شریفانہ اور عقلمندانہ طریق دو ہی ہوتے ہیں۔یا انسان کو مرنا آتا ہو یا انسان کو مارنا آتا ہو۔ہمارا طریقہ مرنے کا ہے مارنے کا نہیں۔ہم کہتے ہیں ہمیں اللہ تعالیٰ نے ابھی اس مقام پر رکھا ہوا ہے کہ مر جاؤ مگر اپنی زبان نہ کھولو۔کیا تم نے جہاد پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظم نہیں پڑھی ؟ اس میں کسی وضاحت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا ہے کہ اگر جہاد کا موقع ہوتا تو خدا تعالیٰ تمہیں تلوار کیوں نہ دیتا۔اُس کا تلوار نہ دینا بتا تا ہ ہے کہ یہ تلوار سے جہاد کا موقع نہیں۔اسی طرح اگر تمہارے لئے مارنے کا مقام ہوتا تو تمہیں اس منہ کے توڑنے کی طاقت اور اس کے سامان بھی ملتے جس منہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دی جاتی ہیں۔مگر تمہیں اس کی توفیق نہیں دی گئی اور وہ سامان نہیں دیئے گئے۔پس معلوم ہوا کہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے یہی مقام مقدر کیا ہے کہ تم گالیاں سنو اور صبر کرو۔اور اگر کوئی انسان سمجھتا ہے کہ اس میں مارنے کی طاقت ہے تو میں اسے کہوں گا اے بے شرم ! تو آگے کیوں نہیں جاتا اور اُس منہ کو کیوں توڑی