خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 149

خطبات محمود ۱۴۹ سال ۱۹۳۷ء ↓ تو بعض دفعہ دشمن اس قسم کی چالا کی بھی کرتا ہے۔سمجھنے والے تو بچ جاتے ہیں لیکن جو اندھا دھند کام کرنے والے ہوں وہ پھنس جاتے اور مصیبتوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اسی وجہ سے اسلام نے حکم دیا كه الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ کہ امام کو ہم نے تمہارے لئے ڈھال کے طور پر بنایا ہے۔اگر ی اس کے پیچھے ہو کر لڑو گے تو زخموں سے بچ جاؤ گے۔لیکن اگر آگے ہو کر حملہ کرو گے تو مارے جاؤ گے کیونکہ وہ خوب سمجھتا ہے کہ کیا حالات ہیں۔کس وقت اعلانِ جنگ ہونا چاہئے اور کس وقت دشمن کے فریب سے بچنا چاہئے۔کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں انسان تفصیل سے بیان نہیں کر سکتا۔رسول کریم ﷺ کی مجلس میں بھی بعض دفعہ لوگ آتے اور گھنٹوں آپ سے مخفی باتیں کرتے۔قرآن کریم میں اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے هُوَ أُذُنٌ ! کہ منافق کہتے ہیں کہ محمدی تو کان ہی کان ہیں۔ہر وقت لوگ آتے اور انہیں رپورٹیں پہنچاتے رہتے ہیں۔تو رسول کریم کی کو بھی کئی مخفی باتوں کا علم ہوا کرتا تھا۔بیسیوں دفعہ ایسا ہوا کہ آپ فرماتے میرے پاس رپورٹ آئی ہے کہ آج فلاں جگہ یہ کام ہو رہا ہے۔تو امام کو وہ معلومات ہوتی ہیں جو اور لوگوں کو نہیں ہوتیں۔اس لئے وہ جانتا ہے کہ فلاں کام جو ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے اور کس طرح ہو رہا ہے اور اس کی کوشش یہ ہوتی کی ہے کہ جماعت سے اُسی وقت لڑائی کرائی جائے جب لڑائی کا کوئی فائدہ ہو۔ورنہ یہ تو نہیں کہ لڑائی کی کرنے میں تم مجھ سے زیادہ بہادر ہو۔پچھلے دو سال میں میں نے ایک ہی وقت میں گورنمنٹ سے اور دوسرے مخالف اقوام۔لڑائی لڑی ہے یا نہیں۔تم میں سے کئی لوگ تھے جو اُس وقت کہتے تھے کہ ہمیں کسی مصیبت میں پھنسا دیا۔مگر میں جانتا تھا کہ وہ وقت لڑنے کا تھا۔پس ہم لڑے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نے فتح پائی۔لیکن اب جماعت کو ایک ایسے فتنہ میں مبتلا کیا جا رہا ہے جس میں میں سمجھتا ہوں ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا کو دکھا دیں کہ ہم مظلوم اور ہمارا دشمن ظالم ہے اور شرارت کی تمام تر ذمہ واری ہمارے دشمن پر ہے ہم پر نہیں۔پس جبکہ ہم کو معلوم ہے کہ اس لڑائی کی وجہ لڑائی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم نے پچھلے دنوں جو حکومت پر یہ ثابت کر دیا تھا کہ ہم ظالم نہیں بلکہ مظلوم ہیں اور ہما را دشمن مظلوم نہیں بلکہ ظالم ہے ، وہ چاہتے ہیں کہ اس خیال کو مٹایا جائے اور بعض اور ذرائع سے اپنی مظلومیت حکومت پر ظاہر کریں۔اگر تم ذرا بھی سوچ سمجھ سے کام لو تو یہ موٹی بات تو تمہیں بھی نظر آسکتی ہے کہ قادیان میں بلا وجہ فتنے مختلف شکلیں بدلتے