خطبات محمود (جلد 18) — Page 146
خطبات محمود ۱۴۶ سال ۱۹۳۷ء اور گڑھے میں جا پڑتا ہے ۔ بلکہ میں کہتا ہوں خیالی مثال کی کیا ضرورت ہے۔ شیر کے شکاریوں کی مثال لے لو جو پہلے زمانہ میں شیر کا شکار اس طرح کرتے تھے کہ گھاس کے نیچے بانس کی کھپچیوں کے اوپر خاص طور پر سریش تیار کر کے چپکا دیتے اور گھاس پر بکرا باندھ دیتے ۔ شیر خیال کرتا کہ بکرا میرا شکار ہے اور وہ اُس پر حملہ کر دیتا۔ لیکن جب بکرے کے پاس پہنچتا تو کھیچیوں میں لپٹ جاتا ۔ اسی طرح دشمن بعض دفعہ ایسی حرکات کرتا ہے جن کے ذریعہ وہ اپنے مخالف کو بُلاتا ہے کہ آؤ اور مجھ پر حملہ کرو عقلمند آدمی موقع کو خوب سمجھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ حملے کا کونسا موقع ہے۔ لیکن نادان آدمی ان باتوں کو نہیں سمجھتا وہ حملہ کر دیتا ہے اور کھیچیوں میں پھنس جاتا ہے۔ پھر شور مچاتا ہے کہ آؤ آؤ اور مجھے اس مصیبت سے بچاؤ ۔ نتیجہ ا ہے کہ اس کی آواز سُن کر دو چار آدمی اور دشمن پر حملہ دشمن پر حملہ کر دیتے ہیں اور وہ بھی انہی کھینچیوں میں پھنس یہ ہوتا ہے جاتے ہیں اور اسی طرح یہ معاملہ بڑھتا جاتا ہے ۔ - انگریزوں میں ایک کہانی مشہور ہے جو اسی قسم کے فتنوں پر چسپاں ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کسی کے پاس کوئی بطخ تھی ۔ جب وہ کسی شخص پر ناراض ہوتا تو کسی طرح اُس کا ہاتھ بلخ کو لگوا دیتا۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ اس بطخ سے اُس کا ہاتھ چمٹ جاتا اور وہ چھوٹ نہ سکتا۔ یہ دیکھ کر اُس کے دوست اور رشتہ دار اُسے چھڑانے کیلئے آتے اور جو بھی بطخ پر ہاتھ ڈالتا اُس کے ساتھ چمٹا جاتا ۔ یہی حال ایسی لڑائی کا ہوتا ہے۔ جب ایک شخص لڑائی میں شامل ہوتا اور دشمن کی گرفت میں آجاتا ہے تو شکوہ کرتا اور شور مچانے لگ جاتا ہے کہ میں جماعت کا ممبر ہوں ، میری مدد کیوں نہیں کی جاتی ۔ میرے ساتھ ہمدردی اور محبت کا سلوک کیوں نہیں کیا جاتا۔ اس شخص کو جواب تو یہ ملنا چاہئے کہ تمہارے ساتھ ہمدردی کیا کی جائے تم نے نظام کو توڑا اور سلسلہ کی ہتک کی لڑائی کرنا امام کا کام تھا، تمہارا کام نہیں تھا۔ لیکن اُس کی آواز سن کر کئی رحم دل یا یوں کہو کہ کمزور دل کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ آؤ اس کی مدد کریں۔ چنانچہ وہ اس کی مدد کیلئے اس کے پیچھے جاتے ہیں اور وہی لڑائی جو پہلے ایک شخص کی تھی اب میں آدمیوں کی لڑائی بن جاتی ہے اور پھر ایک کی بجائے ہیں آوازیں اُٹھنی شروع ہو جاتی ہیں کہ آنا آنا ، بچانا بچانا۔ اس پر وہ لوگ بھی جو پہلے اس خیال سے خاموش ہوتے ہیں کہ یہ انفرادی فعل ہے اس میں ہمیں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے، جوش سے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں اب ایک کا سوال نہیں ، ہمیں کا سوال ہے اور وہ بھی لڑائی میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اب لڑائی میں چالیس آدمی شامل ہو جاتے ہیں ۔ پھر وہ چالیس اپنے