خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 145

خطبات محمود ۱۴۵ سال ۱۹۳۷ء مسلمان ایسا بھی ہوسکتا ہے جو تو حید کو نہ مانے۔نتیجہ یہ ہوا کہ تو حید اُن کے ہاتھ سے جاتی رہی۔انہوں نے خیال کر لیا کہ رسالت پر ایمان لانے کی اہمیت واضح کرنے کی کیا حاجت ہے یہ تو ایک صاف اور واضح مسئلہ ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ رسالت پر ایمان بھی جاتا رہا۔انہوں نے خیال کر لیا کہ نظام کی ضرورت پر زور دینے کی کیا ضرورت ہے سب کو معلوم ہی ہے کہ نظام میں سب برکت ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا نظام بھی ٹوٹ گیا۔انہوں نے خیال کرلیا کہ نماز اور روزہ کی تاکید کرنے کی بار بار کیا ضرورت ہے سب لوگ نمازیں پڑھتے اور روزے رکھتے ہی ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ نمازوں میں بھی سستی آگئی اور روزے بھی ہاتھ سے جاتے رہے۔اسی طرح انہوں نے خیال کر لیا کہ حج کا مسئلہ بھی کوئی ایسا مسئلہ ہے جس سے کوئی نا واقف ہو اور نتیجہ یہ ہوا کہ حج کے مسائل بھی لوگوں کے ذہن سے اُتر گئے اور استطاعت کے باوجود انہوں نے حج کرنا چھوڑ دیا۔تو جب کسی قوم کے علماء یہ خیال کر لیتے ہیں کہ فلاں فلاں مسائل لوگ جانتے ہی ہیں اس قوم میں آہستہ آہستہ ان مسائل سے ناواقفیت پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے اور آخر اس نیکی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔پس میں سمجھتا ہوں ایک حد تک اس کی ذمہ واری جماعت کے علماء پر ہے لیکن ایک حد تک اس کی ذمہ واری جماعت کے افراد پر بھی ہے۔کیونکہ ان کے سامنے یہ مسائل بالکل تازہ ہیں اور وہ خلافت کی اہمیت سے پورے طور پر آگاہ کئے کی جاچکے ہیں اور گو آج اس پر بخشیں نہیں ہوتیں مگر آج سے بیس سال پہلے اس پر خوب بخشیں ہو چکی ہیں اور خود جماعت کے افراد اس میں حصہ لیتے رہے ہیں۔پھر آج وہ ان مسائل کو کیوں بُھول گئے۔میں نے اس امر کی طرف توجہ ان واقعات کی وجہ سے دلائی تھی جو قادیان میں حال ہی میں ظاہر ہوئے۔ނ میں نے دیکھا ہے بعض لوگ فتنہ و فساد کی نیت سے کوئی بات چھیڑ دیتے ہیں اور ہماری جماعت کے دوست فوراً اس کے پیچھے بھاگ پڑتے ہیں اور وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ دشمن کی تو غرض ہی یہ تھی کہ وہ کوئی فتنہ وفساد پیدا کرے اور انہیں زیر الزام لائے۔ان کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہے جس کا دشمن اس کیلئے گڑھا کھودتا اور اُس پر گھاس پھونس ڈال دیتا ہے۔اور وہ اپنی بیوقوفی سے گھاس پر پاؤں رکھتا ہے