خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 141

خطبات محمود ۱۴۱ سال ۱۹۳۷ء اجمالی نقص کا اظہار کوئی چیز نہیں کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس کا اظہار کرتے ہیں لیکن تفصیلی طور پر وہ اپنے آپ کو بے گناہ سمجھتے ہیں۔جب وہ سچائی ، فرمانبرداری ، امانت، دیانت میں سستی کریں اور کوئی ان سے ہی سوال کرے تو جھٹ اپنے نفس کی حمایت کرتے ہیں اور بے عیب ہونے کے دلائل دے کر اپنے نفس کو بھی تسلی دے دیں گے۔یوں چاہے سارا دن ان سے کہلوالو کہ وہ خطا کار ہیں، گنہ گار ہیں لیکن دوسرے وقت میں وہی شخص عیب کرتا ہے اور دریافت کرنے پر چڑتا ہے۔اگر وہ بے عیب نہ تھا تو چڑا کیوں تھا۔سوائے ایسے حالات کے کہ اس کے متعلق خود اللہ تعالیٰ نے کہا ہو کہ تو بے عیب ہے۔اُس وقت اس کا چڑنا اپنے لئے نہیں ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ کیلئے ہوتا ہے اور وہ خدا کے حکم کی وجہ سے مقابلہ کرتا تج ہے۔اگر انبیاء پر اعتراض کیا جاوے تو وہ اپنی ذات کے بچاؤ کے لئے ایسا نہیں کرتے کیونکہ اپنی ذات میں تو وہ اپنے آپ کو کمزور سمجھتے ہیں لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہوتا ہے کہ وہ بے عیب ہیں لہذا خدا کو الزام سے بچانے کیلئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول صحیح ہو نہ کہ اپنی ذات کے واسطے وہ اس کی تردید کرتے ہیں۔جیسے حضرت رسول کریم ﷺ پر الزام لگانا حقیقتا اس ہستی پر الزام لگانا ہے جس نے کہا تھا کہ ہم نے تم کو کچن کی لیا اور اسی لئے لوگ آپ کی حفاظت کرتے تھے۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ آپ اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ خدا کیلئے ایسا کرتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب تک خدا کی ذات کا سوال نہ تھا آپ نے ہر ایک حملہ برداشت کیا۔چنانچہ بادشاہ ہونے کی حیثیت میں مدینہ میں جب ایک یہودی نے آپ کو کہا یا محمدی حالانکہ ایک بڑے آدمی کا اس طرح بلا نا یقینا قابلِ اعتراض تھا ) اس پر صحابہ کو بہت طیش آیا اور قریب تھا کہ اُس کو سزا دیں۔لیکن آپ نے تحمل سے فرمایا کہ اس نے ٹھیک کہا ہے۔سے کیا میرے ماں باپ نے کی میرا نام محمد نہیں رکھا ہے؟ تم غصے کیوں ہوتے ہو؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جہاں خدا کے نام کا سوال نہ تھا بلکہ محض اپنی ذات کا سوال تھا وہاں آپ نے اپنی عزت کو پسند نہ فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی ایک واقعہ ہے کہ ایک دفعہ لاہور کی ایک گلی میں ایک شخص نے آپ کو دھکا دیا آپ گر گئے جس سے آپ کے ساتھی جوش میں آگئے اور قریب تھا کہ اُسے مارتے۔لیکن آپ نے فرمایا کہ اس نے اپنے جوش میں سچائی کی حمایت میں ایسا کیا ہے اسے کچھ نہ کہو۔پس انبیاء اپنے نفس کے سوال کی وجہ سے نہیں بولتے بلکہ خدا کی عزت کے قیام کیلئے بولتے ہیں۔تو یہ نہیں خیال کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ان میں اور عام لوگوں میں بڑا فرق ہوتا ہے۔وہ خدا