خطبات محمود (جلد 18) — Page 125
خطبات محمود ۱۲۵ سال ۱۹۳۷ء جھوٹ اور نفاق کے تمام شعبوں سے پر ہیز رکھنا چاہئے (فرموده ۳۰ اپریل ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- انسانی زندگی میں یہ عجیب بات نظر آتی ہے کہ ایک طرف تو انسان بڑے دعوے سے یہ بات پیش کرتا ہے کہ بھلا میں بیوقوف یا پاگل تھا کہ فلاں بات کرتا۔جس کے معنے یہ ہیں کہ جان بوجھ کر کوئی شخص غلط طریق اختیار نہیں کرتا۔دوسری طرف وہی انسان بعض دفعہ غلط طریقہ اختیار کرتا ہے اور اقرار کی کرتا ہے کہ اُس کا طریق غلط ہے۔کیونکہ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ وہ بے بس تھا اور اس کا بس نہ چلتا تھا اس نے واسطے اس نے ایسا کیا۔وہی آدمی ہوتا ہے ، وہی اُس کی طاقتیں ہوتی ہیں، وہی اس کے حالات ہوتے ہیں لیکن اُس کی زبان پر ایک وقت یہ فقرہ ہوتا ہے کہ کیا میں پاگل تھا کہ ایسا کرتا۔اور پھر اُس کی زبان پر یہ فقرہ ہوتا ہے کہ وہ بے بس تھا اِس واسطے ایسا ہو گیا۔اب ان دونوں باتوں میں سے ایک ضرور غلط ہوتی ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں ہی غلط ہوں۔جب وہ یہ کہتا تھا کہ اس کے بس میں نہ تھا حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اُس نے اپنے بس کو اور طاقت کو استعمال کرنا پسند نہ کیا تھا۔یا جب وہ یہ کہتا ہے کہ کیا میں پاگل تھا کہ ایسا کرتا ، اُس وقت وہ اپنے علم کا غلط فائدہ اُٹھا رہا ہوتا ہے۔درحقیقت وہ جانتا ہے کہ میں نے ایسا کام کیا ہے لیکن اپنے سمجھدار ہونے کی چادر میں اپنے عیب کو چُھپانے لگ جاتا ہے۔گویا وہ جب کہتا ہے کہ کیا میں پاگل تھا اُس وقت بھی جھوٹ بولتا ہے اور جب کہتا ہے کہ میں بے بس تھا اُس وقت بھی بے بس نہیں ہوتا۔جب ہم انسانی اعمال پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ دونوں باتیں غلط کہہ رہا ہوتا ہے