خطبات محمود (جلد 18) — Page 113
خطبات محمود ۱۱۳ الله سال ۱۹۳۷ء مومن خدا کیلئے کام کرتا ہے (فرموده ۲۳ را پریل ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- انسانی کمزوری ایسے موقع پر جا کر کھلتی ہے جبکہ وہ دیکھتے اور جانتے بوجھتے ہوئے ایک غلط اقدام کر بیٹھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ وہ نہایت ہی ہوشیار، چالاک اور دانا ہے حالانکہ وہ اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مار رہا ہوتا ہے۔ منافق کی حالت بالکل ایسی ہوتی ہے ۔ وہ خیال یہ کرتا ہے کہ میرے جیسا چالاک اور ہوشیار کوئی نہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کی بیوقوفی کو ظاہر کر رہا ہوتا ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ منافقوں کے متعلق فرماتا ہے کہ جب اُن سے پوچھا جاتا ہے کہ تم یہ کیا حرکتیں کرتے ہو؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ۔ ہم تو صرف اصلاح کی کوشش کر رہے ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِن لَّا يَشْعُرُونَ ۔ خوب کان کھول کر سُن لو کہ یہی منافق فتنہ فساد پیدا کرنے والے لوگ ہیں ہاں وہ اپنے فتنہ و فساد والے کاموں کی حقیقت کو سمجھتے نہیں ۔ بسا اوقات وہ ایک فتنہ انگیز حرکت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کیا ز دلگائی ہے۔ بسا اوقات خیال کرتے ہیں کہ کیا دھوکا دیا۔ بسا اوقات یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم نے کیسی تدابیر اختیار کر رکھی ہیں کہ ہماری حقیقت کو کوئی معلوم نہیں کر سکتا ۔ حالانکہ ان کی مثال اس اندھے اور سو جا کھے کی ہوتی ہے جن کے متعلق یوں بیان کرتے ہیں کہ ایک اندھا اور سوجا کھا اکٹھے کھانے بیٹھے ۔ سو جا کھے نے تو جس طرح انسان کھاتے ہیں کھانا شروع کر دیا لیکن اندھے کو خیال ہوا کہ یہ ضرور جلدی جلدی کھا رہا ہوگا، اِس لئے اُس نے بھی جلدی