خطبات محمود (جلد 18) — Page 112
رح 3) 2 خطبات محمود ۱۱۲ سال ۱۹۳۷ء لوگوں سے کہو کہ وہ روزے رکھیں اور دعائیں کریں۔جماعتوں کے پریذیڈنٹوں کو چاہئے کہ وہ مساجد میں بار بارلوگوں کو یاد دلاتے رہیں کہ ان ایام میں ان فتنوں کے دور ہونے کیلئے دعائیں کی جائیں جو اس وقت ہمارے سامنے ہیں۔ان مقاصد کیلئے دعائیں کی جائیں جو سلسلہ احمدیہ کے قیام سے تعلق رکھتی ہیں۔اور ان کمزوریوں کیلئے دعائیں کی جائیں جو خواہ ہم میں پائی جاتی ہیں یا دنیا کے اور افراد میں۔تا اللہ تعالیٰ کے فضل ایسے رنگ میں نازل ہوں کہ وہ مصائب کے پہاڑ جو دشمنوں کی طرف سے ہمارے راستہ میں رگرائے گئے ہیں پاش پاش ہو جائیں اور ہمیں کامیابی ، ترقی ، نیکی اور تقویٰ کے سامان زیادہ سے زیادہ عطا ہوں۔پس دعا کے متعلق تمہاری کوشش اور ہمت دوسری کوششوں اور ہمتوں سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہونی چاہئے۔کیونکہ یہ مطالبہ بھی دوسرے مطالبات سے کم نہیں بلکہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔پس روزوں کو یا د رکھو اور دوسروں کو یاد دلاتے رہو اور دعاؤں کو یاد رکھو اور دوسروں کو دعاؤں کیلئے کہتے رہو کیونکہ کام بہت بڑا ہے اور مشکلات بہت زیادہ۔ہم کمزور اور بے بس ہیں۔ہماری کمزوریاں ہم پر عیاں ہیں بلکہ ہم خود بھی اپنی کمزوریوں سے اتنے واقف نہیں جتنا ہمارا خدا۔پس ہم اُسی سے مدد طلب کرتے اور اُسی کی نصرت اور تائید اپنے ہر کام میں چاہتے ہیں۔الفضل ۲۴ را پریل ۱۹۳۷ء) البقرة: ۱۸۷ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً۔۔۔۔(النحل : ١٢١) الاعلى: ١٠