خطبات محمود (جلد 18) — Page 105
خطبات محمود ۱۰۵ سال ۱۹۳۷ء پڑی ہے کہ وہ لوگوں سے سودا کرتا پھرے۔یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی طبیعت کے لوگ گرتے ہیں اور آخر دعا کے مقام پر وہی قائم رہتے ہیں جو اس مقولہ پر عمل کرتے ہیں کہ ؎ کھو جو منگے سو مر رہے مرے سو منگن جائے یعنے مانگنا ایک قسم کی موت ہے لیکن اگر کوئی مانگتا ہی چاہے تو پھر وہ دروازہ سے پہلے نہیں بلکہ بیٹھا رہے ، بیٹھا رہے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ مرجائے۔بیشک دُنیوی لحاظ سے اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ بندوں سے مانگنا موت ہوتا ہے۔لیکن روحانی لحاظ سے اس کے یہ معنی ہیں کہ دعا اُس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک انسان اپنے آپ پر ایک جسمانی موت وارد نہیں کر لیتا۔وہ دعا کرتا ہے اور دعا میں اس قدر محو ہو جاتا ہے اور اتنے تضرع، اتنے درد، اتنے سوز ، اتنے گریہ، اتنے قلق اور اتنے اضطراب کے ساتھ دعا مانگتا ہے کہ وہ بُھول جاتا ہے اپنے ماحول کو ، وہ بُھول جاتا ہے اپنے گردو پیش رہنے والے لوگوں کو، وہ بُھول جاتا ہے اپنے عزیزوں ، دوستوں رشتہ داروں کو ، وہ بُھول جاتا ہے اپنے بیوی بچوں کو اور وہ ول جاتا ہے اپنے آپ کو یہاں تک کہ سب کچھ بھول کر وہ خدا کے پاس چلا جاتا اور اُس کے حضور اپنی حاجات پیش کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ساری خیر خدا میں ہی ہے۔تب جس طرح ایک پیاسا شدت پیاس سے دور سے چشمے کو دیکھ کر دوڑ کر اُس کی طرف جاتا اور ضعف و ناطاقتی کی وجہ سے چشمہ کے قریب جا کر گر جاتا اور نہایت حریص اور للچائی ہوئی نگاہوں سے چشمہ کی طرف دیکھنا شروع کر دیتا ہے کہ کاش! چشمہ حرکت میں آئے اور اس کے منہ میں خود بخود اُس کا پانی پہنچ جائے اسی طرح دعا کرنے والے کی کیفیت ہوتی ہے۔وہ بھی بے حس ہو کر آستانہ الوہیت پر گر جاتا ہے اور اپنے رب کی طرف کی دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔بے شک جسمانی چشمے ایسی حالتوں میں چل کر انسان کے پاس نہیں آتے مگر کی روحانی چشمے ایسی حالت میں خود بخود چل کر انسان کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو قرآن مجید میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ۔اے محمد یا یہ کوئی مانگنے والا ایسا بھی ہوگا جو دعائیں کرتا چلا جائے گا، کرتا چلا جائے گا اور کرتا چلا جائے گا یہاں تک کہ اُس کے پیر تھک جائیں گے، اُس کے ہاتھ شل ہو جائیں گے، اُس کا دماغ پر یشان ہو جائے گا ، اس کے قومی مضمحل ہو جائیں گے اور وہ بے اختیار ہو کر کہے گا میرا خدا کہاں ہے؟ فرمایا اسے کہہ دو اِنِّی قَرِيبٌ میں دوڑا ہی آرہا ہوں۔اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ جب بندہ ایسی حالت میں بھی اللہ تعالیٰ کو پکارتا چلا جاتا ہے جب