خطبات محمود (جلد 18) — Page 662
خطبات محمود ۶۶۲ سال ۱۹۳۷ء کہ یہ بھی نہ ڈوبے اور دوسرے لوگ بھی نہ ڈو ہیں۔اور یہ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ انسان اپنے نفس پر بھی بدظنی نہ کرے اور دوسرے لوگوں پر بھی بدظنی نہ کرے۔اگر وہ اپنے آپ پر بدظنی نہ کرے اور اپنے رب پر بھی بدظنی نہ کرے اور وہ یہ سمجھے کہ وہ سخت گیرا اور سنگدل نہیں بلکہ رحم کرنے والا اور گنہگار کی تو بہ کو قبول کرنے والا ہے۔مجھے چاہئے کہ میں گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا چلا جاؤں۔تو اول تو وہ دنیا میں ہی کامیاب ہو جائے گا اور شیطان کے پنجہ سے رہائی پا جائے گا اور اگر دنیا میں کامیاب نہ ہوا اور اسی جد و جہد میں اسے موت آجائے ، تب بھی خدا تعالیٰ کا فضل اسے ڈھانپ لے گا۔غرض انسان اگر اپنے نفس پر بدظنی ترک کر دے تو اس سے اس کے گناہ بھی کچھ کم ہو جائیں اور اس کے دل میں کام کرنے کی امنگ اور جوش پیدا ہو جائے۔اسی طرح اگر وہ دنیا پر حسن ظنی کرے اور کہے کہ اگر مجھے ہدایت مل سکتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ دوسروں کو نہیں مل سکتی۔یقیناً جس طرح مجھے ہدایت ملی اسی طرح دوسروں کو بھی ہدایت مل سکتی ہے تو اس کے نتیجہ میں وہ ان کو تبلیغ کرنے سے غافل نہیں ہوگا اور اپنی کوشش میں مشغول رہے گا یہاں تک کہ انہیں ہدایت حاصل ہو جائے گی۔چنانچہ اس امر کی کئی مثالیں موجود ہیں کہ وہ لوگ جو ایک وقت صداقت کے شدید ترین دشمن ہوتے ہیں دوسرے وقت میں اسی صداقت کیلئے ہر قسم کی قربانی کرنے والے بن جاتے ہیں۔حضرت عمر و بن العاص ایک مشہور صحابی گزرے ہیں۔گو مسلمانوں کا ایک طبقہ انہیں حقارت کی نی نظر سے دیکھتا ہے مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ بہت ذہین اور ہوشیار تھے۔وہ جب مرض الموت سے بیماری وئے تو ایک دوست ان کی عیادت کے لئے گئے اور پوچھا کہ کیا حال ہے؟ وہ یہ سن کر رو پڑے اور کہنے لگے اگر رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں میں فوت ہو جاتا تو مجھے یقین ہوتا کہ میں بخشا جاؤں گا۔کیونکہ اُس وقت ہم ہر قسم کے عیبوں سے بچے ہوئے تھے مگر آپ کی وفات کے بعد کئی واقعات ایسے پیش آئے ہیں کہ اب اپنے اعمال کے متعلق مجھے شبہ پیدا ہو گیا ہے ( حضرت عمرو بن العاص دراصل حضرت معاویہ کی طرف سے حضرت علیؓ سے جنگ کرتے رہے تھے اور شاید اسی کا اُن کی طبیعت پر اثر تھا )۔پھر کہنے لگے میرا عجیب حال ہے۔ایک زمانہ مجھ پر ایسا گزرا ہے کہ رسول کریم ﷺ سے زیادہ قابل نفرت وجود مجھے اور کوئی نظر نہیں آتا تھا۔میں نے جو نبی آپ کا دعویٰ سنا، دل میں آپ سے بغض پیدا ہو گیا اور اسی بغض کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل کبھی نہیں دیکھی بلکہ اتنی نفرت پیدا ہوگئی اتنی نفرت پیدا ہوگئی کہ میں کبھی یہ پسند