خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 66

خطبات محمود ۶۶ سال ۱۹۳۷ء جب تبلیغ کا زور ہوا تو تبلیغ میں مشغول ہو گئے اور جب دعا کی تحریک ہوئی تو دعاؤں میں لگ گئے اور جب سادہ زندگی پر زور دیا گیا تو اُس کی طرف توجہ کرنی شروع کر دی۔جب ہاتھ سے کام کرنے پر زور دیا تو کی ہاتھ سے کام کرنے لگ گئے اور پھر آرام سے گھروں میں بیٹھ گئے۔لیکن انہیں یا د رکھنا چاہئے کہ اس کی تحریک کی تکمیل تو اس کی چھ جہات کی تکمیل کے ساتھ ہی ہو سکتی تھی۔اگر مکان کی ایک وقت میں ایک ہی دیوار قائم رہے تو وہ مکان حفاظت کا کس طرح موجب ہوسکتا ہے۔اگر انسان ایک طرف توجہ کرے اور دوسری کو چھوڑ دے تو اسکے یہی معنے ہوں گے کہ جب وہ اپنے مکان کی دوسری دیوار کو کھڑا کرے تو پہلی کو گرادے۔ایسا شخص کبھی بھی اپنے مکان کو مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔وہ تو گرا تا اور بناتا ہی رہے گا۔نہ کبھی چھت پڑے گی اور نہ اس کا مکان رہائش کے قابل ہوگا۔ایسا شخص تو بہت ہی قابلِ رحم ہے ورسب سے زیادہ رحم اسے اپنی جان پر آنا چاہئے۔مگر کتنے ہیں جو اپنی جانوں پر رحم کر کے اپنے اندر یہ تبدیلی پیدا کرتے ہیں کہ نیکیوں میں دوام پیدا کریں اور یہ نہ ہو کہ ایک کو اختیار کرتے وقت دوسری کو چھوڑ بیٹھیں۔اسی طرح ربوبیت عالمین میں ایک موٹی چیز ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توجہ کا فرو مومن کی طرف یکساں ہے یعنی وہ عالم کفار کی بھی پرورش کر رہا ہے اور عالم مومنین کی بھی پرورش کر رہا ہے۔گو عالم مومنین کی پرورش عالم کفار کی پرورش سے مختلف ہے مگر دونوں جگہ پر پرورش کا کام جاری ہے۔کسی جگہ پر تو تبلیغ کے ذریعہ سے اس کی ربوبیت ظاہر ہوتی ہے لیکن کسی جگہ پر تربیت کے ذریعہ سے۔کہیں وہ انذار کو ذریعہ ء ہدایت بناتا ہے تو کہیں انعام کو باعث ترقی بنادیتا ہے۔غرض کسی کو ڈرا کر کسی کی ہمت بلند کر کے کسی کو خوف دلا کر کسی کو انعام اور عطیہ کے ساتھ وہ کھینچے ہوئے لئے چلا جاتا ہے اور یہی سبق مومن کو بھی حاصل کرنا چاہئے۔اس کی توجہ کا فرو مومن کیلئے یکساں ہونی چاہئے ، گمراہ اور ہدایت یافتہ کیلئے یکساں ہونی چاہئے مگر میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے دوستوں کو اس دقت نظر سے ابھی وابستگی پیدا نہیں ہوئی۔زیادہ تر ان میں سے وہی ہیں جو غیروں میں تبلیغ تو کر دیتے ہیں مگر اپنی جماعت کی تربیت کی طرف ان کی توجہ نہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہماری جماعت میں بعض نئے پیدا ہونے والے بچے سلسلہ کی تعلیموں اور سلسلہ کی اغراض سے بالکل ناواقف ہیں اور ان کا مذہب صرف ورثہ کا مذہب ہے اور وہ اسی طرح گمراہی کا شکار ہو سکتے ہیں جس طرح دوسرے فرقوں اور دوسری قوموں کے لوگ۔