خطبات محمود (جلد 18) — Page 573
خطبات محمود ۵۷۳ سال ۱۹۳۷ء خبر گیری کرنے والا ہو، بے شک اُستاد شاگرد سے محبت رکھتا ہو اور شاگر استاد کی عظمت پہچانتا ہو، بیشک تاجر دیانتداری سے سو دا دیتے ہو اور بے شک ہر قسم کے آرام اور ہر قسم کی سہولتیں حاصل ہوں لیکن اگر انسان کے دل میں یہ خلش موجود ہو کہ وہ کیوں پیدا کیا گیا اور اس کا کیا انجام ہے تو پھر بھی دنیا میں کبھی حقیقی امن قائم نہیں ہوسکتا۔اس خلش کو دور کرنے کیلئے جب تک محمد ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم انسان کے سامنے پیش نہ کی جائے ، جب تک اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نظارے اس کے سامنے نہ رکھ دیئے جائیں، جب تک ہم اُسے یہ بتا نہ دیں کہ یہی زندگی اس کا اصل مقصود نہیں۔بلکہ اصل زندگی وہ ہے جب وہ مرنے کے بعد اپنے رب کے سامنے پیش کیا جائے گا اور خدا اُسے کہے گا کہ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِی ۵ا کہ اے میرے بندے میں نے تجھے بے انتہاء انعامات دینے ہیں۔میں نے تیری روح ہمیشہ قائم رکھنی ہے۔بے شک تیری دُنیوی زندگی ہزاروں مایوسیوں ، ہزاروں ناکامیوں اور ہزاروں بیماریوں کی آماجگاہ تھی لیکن یا درکھ کہ وہی تیری زندگی نہیں تھی بلکہ اصل زندگی وہ ہے جو اب تجھے میں دیتا ہوں اور جو ہر قسم کی تکلیفوں اور ہر قسم کی ذلتوں اور ہر قسم کے تنزل سے محفوظ ہے۔آ اور اب میری جنت میں داخل ہو جا اُس وقت تک اس کا دل اطمینان حاصل نہیں کر سکتا۔ہاں جب یہ خیال کسی کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ میری زندگی عبث نہیں بلکہ یہ ایک اور عظیم الشان زندگی کا پیش خیمہ ہے اور اصل زندگی وہ ہے جو میری موت کے بعد شروع ہوگی۔تب وہ اپنے دل میں حقیقی اطمینان اور حقیقی امن محسوس کرتا ہے اور اُس وقت وہ صرف اپنی پیدائش پر ہی خوش نہیں ہوتا بلکہ اپنی موت پر بھی خوش ہوتا ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ موت اس لئے نہیں کہ مجھے تباہ کرے بلکہ اس لئے کہ وہ مجھے چھوٹی جگہ سے اٹھا کر ایک بلند مقام پر پہنچا دے۔کیا تم نے کبھی دیکھا کہ کوئی شخص تحصیلدار سے ای اے سی ہو گیا ہو یا ڈپٹی کمشنر سے کمشنر ہوگیا ہو یا کمشنر سے فنانشل کمشنر ہو گیا ہو یا فنانشل کمشنر نے گورنر ہو گیا ہو اور وہ بجائے خوش ہونے کے رونے لگ گیا ہو۔اسی طرح مومن اپنی موت پر روتا نہیں بلکہ خوش ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مجھے انعامات ملنے کا وقت آ گیا۔لیکن جو شخص روتا ہے وہ اس لئے روتا ہے کہ اس نے زندگی محض دُنیوی حیات کو سمجھ رکھا تھا اور اس نے دیکھا کہ اس زندگی کا بیشتر حصہ نا کامی اور بدمزگی میں گزر گیا اور اسے کچھ بھی لطف نہ آیا۔مگر جو شخص جانتا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی ایک امتحان کا کمرہ ہے۔وہ اس کمرہ سے نکلتے وقت خوشی محسوس کرتا ہے۔جس طرح وہ لڑکا جو اچھے پرچے کر کے آتا ہے خوش ہوتا ہے، اسی طرح مومن جب