خطبات محمود (جلد 18) — Page 521
خطبات محمود ۵۲۱ سال ۱۹۳۷ء کے متعلق ایک مُنذر خواب تھا۔اُس وقت ان کا دل مصری صاحب کی طرف سے اتنا صاف تھا کہ چیٹھی مضمون ہی بتا رہا تھا کہ وہ مصری صاحب پر نہ صرف یہ کہ بدظن نہیں بلکہ ان سے عقیدہ رکھتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے اس خط میں لکھا تھا کہ میں نے ایک خطر ناک ڈراؤنا خواب دیکھا ہے جس سے مجھے اپنی ایمانی کی حالت کے متعلق شبہ پیدا ہو گیا ہے۔میں نے دیکھا کہ ایک جگہ آپ بیٹھے ہیں، مجلس لگی ہوئی ہے اور آپ کی شیخ عبد الرحمن صاحب مصری اور ایک اور شخص کے متعلق ( اس شخص کا نام انہوں نے لکھا تھا لیکن میں ظاہر کرنا نہیں چاہتا ) فرماتے ہیں کہ انہوں نے نفاق سے کام لیا ہے اور میں انہیں جماعت سے خارج کرتا ہوں۔یہ خواب بیان کرنے کے بعد انہوں نے سخت گھبراہٹ کا اظہار کیا ہوا تھا اور لکھا تھا کہ چونکہ شیخ صاحب اور دوسرے صاحب کے متعلق تو ایسا گمان بھی نہیں ہوسکتا وہ تو مخلص آدمی ہیں اس لئے مجھے سخت گھبراہٹ ہے کہ شاید اس خواب میں میری اپنی روحانیت کا نقشہ نہ کھینچا گیا ہو۔کیونکہ بعض دفعہ رویا میں ایک مومن کو دوسرے مومن کا آئینہ بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔پس میں سخت گھبرا گیا ہوں کہ شاید میرے ایمان میں کوئی نقص ہے جسے ظاہر کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ رو یا مجھے دکھائی ہے۔گویا اُس وقت انہیں شیخ عبدالرحمن صاحب مصری سے اتنی عقیدت تھی کہ وہ یہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ مصری صاحب نفاق سے کام لے سکتے ہیں۔بلکہ سمجھتے تھے کہ مصری صاحب کے آئینہ میں مجھے اپنی شکل دکھلائی گئی ہے۔مگر پھر کس طرح لفظ بلفظ اور ہو بہو یہ بات پوری ہوئی۔اس کے علاوہ اور بھی بیسیوں خواب ہیں ہیں جو جماعت کے مختلف افراد کو ان کے ارتداد کے متعلق آئیں۔پس مصری صاحب کو قرآن کریم کی اس آیت پر غور کرنا چاہئے جس میں اللہ تعالیٰ یہود و نصاری کو تورات وانجیل کی ان پیشگوئیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے جو رسول کریم کے متعلق ان کتب میں پائی جاتی ہیں۔اور فرماتا ہے کہ کیا ہمارا یہ بندہ موسیٰ کے پاس جانب طور میں موجود تھا۔جب اس نے اپنے مثیل کی خبر دی تھی کہ اس نے سازش کر کے وہ پیشگوئی لکھوالی اور انہیں سوچنا چاہئے کہ یہی دلیل اس موقع پر بھی چسپاں ہوتی ہے۔اگر ہم لوگوں نے ان کے خلاف کوئی منصوبہ کیا ہے تو کیا خدا تعالیٰ بھی اس منصوبہ میں ہمارے ساتھ شریک ہو گیا اور اس نے ۲۲ سال پہلے سے اس سازش کی بنیا درکھنی شروع کر دی۔انہیں غور کرنا چاہئے کہ کیا وجہ ہے کہ جب ان کے ارتداد کا کسی کو وہم و گمان بھی نہ ہوسکتا تھا یعنی کی آج سے بائیس سال پہلے اُس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے ان کے ارتداد کی خبر دی۔پھر ۸-۹ سال پہلے اس کی