خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 501

خطبات محمود ۵۰۱ سال ۱۹۳۷ء الفاظ استعمال نہ کریں بلکہ قرآن کریم اور احادیث کے رو سے جواب دیں۔دوسرا امر جس کی طرف میں دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ تحریک جدید کے تین سال اب ختم ہو رہے ہیں۔جب میں نے یہ اوران تحریک شروع کی تھی ، اُس وقت جماعت کیلئے ایک نیا صدمہ تھا اور دوستوں کیلئے یہ حیرت انگیز بات تھی کہ گورنمنٹ کے بعض افسر بھی ہمارے خلاف ہو گئے تھے۔اس نے ان کی آنکھیں کھول دی تھیں اور ی انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ ہمارا یہ خیال غلط ہے کہ ہمارے لئے یہی مقدر ہے کہ ہم امن سے اپنا کام کرتے جائیں گے۔سرکاری حکام کا یہ سلوک اِس قدر آنکھیں کھولنے والا تھا کہ بہت سے سوئے ہوئے بیدار ہو گئے۔اور لازمی طور پر ہماری بیداری کے ساتھ ہمارے دشمن بھی بیدار ہوئے خواہ وہ حکام میں سے تھے، خواہ احرار میں سے اور خواہ وہ دوسرے مولویوں میں سے۔انہوں نے باہر سے بھی ہم پر حملے کرنے کی شروع کئے اور اندرونی طور پر بھی۔ہم میں سے بعض کو اپنے ساتھ ملانا چاہا ” Divide & Rule ایک پرانا اصولِ حکمرانی ہے۔رومن حکومت کی بنیاد اسی اصول پر تھی ، یعنی محکوموں میں باہم تفریق پیدا کرو اور ان پر حکومت کرتے جاؤ۔اور بعض انگریز سیاست دانوں نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی حکومت کی بنیاد بھی اسی اصل پر ہے۔چنانچہ اس اصل کے ماتحت ہم میں سے بعض لوگوں کے اندر بھی منافقت پیدا کی کرنے کی کوشش کی گئی۔چنانچہ پنجاب کے جیلوں کے ایک بڑے افسر کے ذریعہ بالواسطہ طور پر مجھے معلوم ہوا یعنی اُس نے ایک معزز احمدی افسر کو بتایا ہے کہ احرار کے ایک اہم اور ذمہ داری قیدی۔سے ۱۹۳۵ء میں کہا کہ یہ مت خیال کرو کہ قادیان کے خلاف ہماری تحریک ناکام ہوئی ہے بلکہ ہم نے ان میں سے ہیں پچھپیں آدمی اپنے ساتھ ملالئے ہیں اور اس طرح جماعت کے اندر تفرقہ پیدا کر چکے ہیں۔یہ ۱۹۳۵ء کی بات ہے مگر یہ تدبیریں انہوں نے انسانوں کی طاقت کا اندازہ کر کے کی تھیں خدائی کی طاقتوں کا ان کو علم نہ تھا۔انسانی طاقتوں کو نقصان پہنچانے کیلئے یہ اصول بیشک صحیح ہے مگر خدائی طاقتوں کیلئے نہیں۔کیونکہ خدائی طاقتوں کی جڑ خود خدا تعالیٰ ہوتا ہے اور انسان محض فروع ہوتے ہیں اور جب درخت کی جڑ کٹ جائے تو اسے نقصان پہنچتا ہے۔لیکن شاخیں کاٹنے سے اکثر درخت پھیلتا ہے بلکہ بعض درخت تو ترقی ہی اس طرح کرتے ہیں کہ ان کی شاخیں کائی جائیں۔ہمارے مخالفوں نے سمجھا تھا کہ یہ انسانی کام ہے حالانکہ ایسا نہیں۔وہ اگر میں چھپیں تو کیا دس لاکھ کو بھی گمراہ کر لیتے بلکہ ساری جماعت کو بھی گمراہ کر لیتے بلکہ ساری جماعت کو بھی گمراہ کر لیتے تو بھی اس درخت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے