خطبات محمود (جلد 18) — Page 500
خطبات محمود ۵۰۰ سال ۱۹۳۷ء آج بھی ماتم کیا جاتا ہے۔تو مظلومیت کا رتبہ بڑا ہے جس کی ہمارے دوستوں کو قدر کرنی چاہئے اور اگر وہ ظالموں کی صف میں کھڑا ہونے کی بجائے مظلومیت دنیا کے سامنے پیش کریں تو یہ زیادہ اچھا ہے۔مومن تو دنیا میں آتا ہی مظلوم بننے کیلئے ہے۔اس کی مثال تو اس شخص کی ہوتی ہے جو دولڑنے والوں کو چھڑاتا ہے اور جسے دونوں ہی مارتے ہیں اور اس طرح اس کا کام ہی مظلوم بننا ہوتا ہے۔پس میں دوستوں کو خصوصاً اخبار والوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سخت الفاظ استعمال نہ کیا کریں۔اگر کسی مضمون میں کوئی سخت لفظ ہو بھی تو اسے کاٹ دیں۔ایڈیٹر کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ جو لفظ کی نا مناسب سمجھے اسے کاٹ دے اور اگر کسی کو اس پر اعتراض ہو تو وہ اپنا مضمون واپس لے لے۔یہ کوئی عذر نہیں کہ ہم نے دشمن کی بیسیوں گالیوں کے مقابلہ میں صرف ایک آدھ لفظ ہی سخت استعمال کیا ہے۔ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ بیسیوں گالیاں سننے کے بعد ، چالیس، پچاس اور سو بلکہ ہزار کا بھی انتظار کریں۔رسول کریم ﷺ کی مجلس میں ایک دفعہ حضرت ابو بکر کے ساتھ کسی شخص کا اختلاف ہو گیا۔وہ شخص مَغْلُوبُ الْغَضَبُ تھا۔اُس نے سخت الفاظ استعمال کرنے شروع کر دئیے۔کچھ دیر حضرت ابو بکر خاموش رہے مگر آخر آپ کو بھی غصہ آگیا اور آپ نے بھی کوئی سخت لفظ استعمال کیا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو بکر ! اس وقت تک فرشتے تمہارے طرف سے جواب دے رہے تھے۔مگر جب دیکھا کہ تم خود جواب دینے لگے ہو تو وہ لوٹ گئے کہ اب اس نے اپنا کام آپ سنبھال لیا ہے۔پس اپنے مقصود کو سامنے رکھو میرا یہ مطلب نہیں کہ جواب نہ دو۔جواب میں حق نہ کہنے والے کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گونگا شیطان فرمایا ہے۔پس جواب دو اور ضرور دو مگر گالی اور سخت کلامی سے نہیں بلکہ نرمی اور رفق سے۔جب کوئی شخص غصہ میں آ جائے تو دلائل بھول جاتا ہے اور لفاظی پر خوش ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں نے کیسا منہ توڑ جواب دیا۔حالانکہ دراصل وہ دشمن کا منہ تو نہیں رہا ہوتا بلکہ اپنا ہی قلم توڑ دیتا ہے۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ جواب مت دو۔جواب نہ دینے والے کو رسول کریم ﷺ نے گونگا شیطان قرار یا بنے ہے۔بلکہ مجھے یہ افسوس ہے کہ اس وقت ہمارے بعض دوست عملی طور پر گونگے شیطان کے مثیل۔ہوئے ہیں۔ان کو بھی چاہئے کہ سلسلہ کے لٹریچر میں مفید اضافہ کریں۔میں صرف یہ کہتا ہوں کہ سختی