خطبات محمود (جلد 18) — Page 47
خطبات محمود ۴۷ سال ۱۹۳۷ء خواہش کسی سننے والے نے کہا تم نے اس میں بخار کی شرط کیوں لگائی ہے؟ تو اس نے کہا اس لئے کہ پھر مجھے کوئی کام کیلئے نہیں بلائے گا۔کسی فارسی شاعر نے بھی کہا ہے کہ۔فکر ہر کس بقدر ہمت اوست جتنی ہمت کسی فرد میں ہوتی ہے اتنے ہی بلند اس کے خیالات ہوتے ہیں۔کچھ عرصہ کی بات ہے ایک دفعہ ایک ہند و دوست میرے ہم سفر تھے۔باتوں باتوں میں وہ مجھ سے کہنے لگے آپ تو قادیان کے بادشاہ ہوئے۔میں نے کہا میں تو کوئی بادشاہ نہیں ، بادشاہ تو انگریز ہیں۔وہ کہنے لگا ہاں ! مگر پھر بھی آپ کو وہاں ایک قسم کی بادشاہت حاصل ہے۔میں نے کہا تو پھر اس میں قادیان کی کیا شرط ہے اس قسم کی بادشاہت تو مجھے ساری دنیا کی حاصل ہے۔اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکا ہے کہ احمدی جماعت کو دنیا میں بلندی، طاقت اور شوکت عطا فرمائے۔وہ جب بھی حاصل ہو ، ہو کر رہے گی۔اس کی ابتداء چھوٹی نظر آتی ہوگی اور سنت اللہ کے مطابق ایسا ہی ہونا چاہئے مگر وہ چھوٹی چیز بڑی چیز کا ایسا ہی پیش خیمہ ہے جیسے ایک بیج ڈالا ہوا آئندہ بہت سے دانوں کے اُگنے کا موجب ہوتا ہے۔انگریزی حکومت اس زمانہ میں فوج کے لحاظ سے سب سے چھوٹی سجھی جاتی ہے باقی یورپین حکومتیں جو ہیں ان میں جبری بھرتی کا دستور ہے اور ہر نوجوان کو سال دو سال کے لئے فوج میں ضرور کام کرنا پڑتا ہے لیکن انگریزوں میں جبری بھرتی کا دستور نہیں بلکہ یہ لوگوں کو نوکر رکھتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ن ہے کہ جرمن ، اٹلی اور فرانس کی جہاں اتنی اتنی اور نوے نوے لاکھ فوج ہے وہاں انگریزی فوج تین لاکھ کے قریب ہے۔گویا یہ بڑی سلطنتوں میں سے سب سے چھوٹی فوج رکھنے والی حکومت ہے۔پھر ان کا کیا کہنا ہے جن کی فوجیں اتنی اتنی لاکھ اور نوے نوے لاکھ اور کروڑ کروڑ کی ہیں۔مگر اس کے مقابلہ میں ذرا ان لوگوں کا بھی اندازہ کرو جو بدر کے موقع پر اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے نکلے تھے۔وہ گل ۳۱۳ آدمی تھے یہ فوج تھی جو کفار سے لڑنے کیلئے نکلی تھی ، یہ فوج تھی جو ملک نے اپنا سارا زور صرف کرنے کے بعد مہیا کی تھی۔ہم اسے اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ دنیا کی سب جنگوں سے اس کو بڑا سمجھتے ہیں مگر سرحدی قبائل کی معمولی معمولی جنگوں کے برابر بھی اس میں فوج نہیں تھی۔کوئی انگریزی فوج کا جرنیل اگر اس لڑائی کو دیکھتا یا روسی فوج کا جرنیل اس لڑائی کو دیکھتا۔یا جرمن فوج کا جرنیل اس لڑائی کو دیکھتا تو شاید نہایت حقارت سے مُسکر اکر کہہ دیتا یہ بھی ایک بچوں کا کھیل ہے، بھلا تین سو آدمی کی فوج بھی کوئی فوج ہوا کرتی تھ