خطبات محمود (جلد 18) — Page 452
خطبات محمود ۴۵۲ سال ۱۹۳۷ء عورتوں سے دشمنی کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔پس آپ پر الزام یا رسول کریم ﷺ سے بغض کی وجہ سے لگایا گیا 3 یا حضرت ابوبکر سے بغض کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔رسول کریم ﷺ کو جو مقام حاصل تھا وہ تو الزام لگانے والے کسی طرح چھین نہیں سکتے تھے۔انہیں جس بات کا خطرہ تھا وہ یہ تھا کہ رسول کریم ہے کے بعد بھی وہ صلى الله اپنی اغراض کو پورا کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اور وہ دیکھ رہے تھے کہ آپ کے بعد خلیفہ ہونے کا اگر کوئی شخص اہل ہے تو وہ ابو بکر ہی ہے۔پس اس خطرہ کو بھانپتے ہوئے انہوں نے حضرت عائشہ پر الزام لگا دیا تا حضرت عائشہ رسول کریم ﷺ کی نگاہ سے گر جائیں اور ان کے گر جانے کی وجہ سے حضرت ابو بکر کو ی مسلمانوں میں جو مقام حاصل ہے وہ بھی جاتا رہے اور مسلمان آپ سے بدظن ہو کر اس عقیدت کو ترکی کر دیں جو انہیں آپ سے تھی۔اور اس طرح رسول کریم ﷺ کے بعد حضرت ابو بکر کے خلیفہ ہونے کا دروازہ بالکل بند ہو جائے۔جس طرح حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں پیغامیوں کا گروہ مجھ پر اعترض کرتا رہتا تھا اور مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔پس یہی وجہ تھی کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عائشہ پر الزام لگنے کے واقعہ کے بعد خلافت کا بھی ذکر کیا۔صلى الله حدیثوں میں صریح طور پر آتا ہے کہ صحابہ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد اگر کسی کا مقام ہے تو وہ ابو بکر کا ہی مقام ہے۔پھر حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم ہے کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ يَا رَسُولَ الله آپ میری فلاں نی حاجت پوری کر دیں۔آپ نے فرمایا اس وقت نہیں پھر آنا۔وہ بدوی تھا اور تہذیب اور شائستگی کے اصول سے ناواقف تھا اُس نے کہا آخر آپ انسان ہیں اگر میں پھر آؤں اور آپ اُس وقت فوت ہو چکے ہوں تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا اگر میں دنیا میں نہ ہوا تو ابوبکر کے پاس چلے جانا وہ تمہاری حاجت کی پوری کر دے گا۔" اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا اے عائشہ! میں چاہتا تھا کہ ابو بکر کو اپنے بعد نا مزد کر دوں مگر میں جانتا ہوں کہ کی اللہ اور مومن اس کے سوا اور کسی پر راضی نہ ہونگے سے اس لئے میں کچھ نہیں کہتا۔غرض صحابہ یہ قدرتی طور پر سمجھتے ہیں کہ رسول کریم کے بعد ان میں سے اگر کسی کا درجہ ہے تو ابوبکر کا اور وہی آپ کا خلیفہ بنے کے اہل ہیں۔کی زندگی تو ایسی تھی کہ اس میں حکومت اور اس کے انتظام کا سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا۔لیکن مدینہ میں رسول کریم ﷺ کے تشریف لانے کے بعد حکومت قائم ہوگئی۔اور طبعا منافقوں کے دلوں میں