خطبات محمود (جلد 18) — Page 43
خطبات محمود ۴۳ سال ۱۹۳۷ء سے معلوم ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں میں وقت کو ضائع کرنے کا مرض کس حد تک پہنچ گیا ہے اور اس میں غریب اور امیر میں فرق نہیں۔خواہ ضائع کرنے کے طریقوں میں فرق ہو مگر ضائع سب کرتے ہیں۔سب ہی محنت سے جی چراتے ہیں اور اس امر میں ہم دونوں میں کوئی امتیاز نہیں کر سکتے۔دونوں وقت کی کی کوئی قیمت نہیں سمجھتے۔کل ہی ایک نو جوان کو میں نے دیکھا جو مبلغین کلاس میں پڑھتا ہے۔وہ پرسوں رات باہر سے جہاں اسے کسی کام پر بھیجا گیا تھا واپس آیا اور کل شام کو اس نے رپورٹ کی۔میں نے اس سے دریافت کیا کہ آپ نے یہ اطلاع کل ہی واپسی پر کیوں نہ دی۔تو اس نے جواب دیا کہ میں نو بجے کی گاڑی سے آیا تھا اور خیال کیا کہ اب نو بج چکے ہیں۔اس نے خیال کیا کہ جس طرح نو بجے جانا اس کیلئے بڑی بات ہے ، سب کیلئے اسی طرح ہے۔اس نے چونکہ پہلے میاں بشیر احمد صاحب کو رپورٹ دینی تھی۔میں نے پوچھا کہ پھر صبح میاں صاحب کو کیوں نہ ملے؟ تو جواب دیا کہ میں آیا تھا مگر منتظمین نے ان سے ملا یا نہیں۔اس لئے واپس چلا گیا اور اس طرح چار مرتبہ آیا مگر ملنے کا موقعہ نہ ملا۔میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے چار مرتبہ اپنے آپ کو ملزم بنایا۔اگر تم پکے مومن ہوتے تو اس وقت تک دہلیز نہ چھوڑتے جب تک مل کر کام نہ کر لیتے۔آپ لوگوں کو اچھی طرح اس امر کا احساس ہونا چاہئے کہ جو اہم کام ہوتے ہیں، ان میں چاہے جان بھی چلی جائے ملنا نہیں چاہئے۔اس میں امیر اور غریب کا کوئی سوال نہیں ، دونوں کیلئے اس کی کی پابندی ضروری ہے۔مگر میں نے دیکھا ہے کہ نہ امیر اس کے پابند ہیں نہ غریب۔حالانکہ میں نے بار بار توجہ دلائی ہے۔اچھی طرح یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا میابیاں انہی لوگوں کو عطا کرتا ہے جو کام کے عادی ہوں۔جیتنے والے محنتوں سے نہیں گھبرایا کرتے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالنَّشِطَتِ نَشَطًا۔والشحَاتِ سَبْحًا لے یعنی ہمیشہ کامیاب وہی ہوتے ہیں جو گرہ کشائی میں لگے رہتے ہیں۔وہ ای چھوڑتے نہیں جب تک گرہ کو کھول نہیں لیتے اور کام کو پورا نہیں کر لیتے اور پھر وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ کئی لوگ اس پر بڑے خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے کی آٹھ گھنٹے کام کیا ہے۔حالانکہ وہ تو تندرست ہوتے ہیں اور میرے جیسے بیمار کو سال میں بہت دفعہ ۲۲-۲۲ گھنٹے روزانہ کام کرنا پڑتا ہے۔میں نے کئی دفعہ اپنے معترضین سے کہا ہے کہ میرے ساتھ دس دن اگر کام