خطبات محمود (جلد 18) — Page 348
خطبات محمود ۳۴۸ سال ۱۹۳۷ء بڑھ کر مجرم ہوں جتنا تم مجھے سمجھتے ہو۔اور اگر گفر اسی کا نام ہے کہ خدا تعالیٰ کے بعد رسول کریم ہی کی محبت دل میں پائی جاتی ہو اور آپ کا عشق رگ وریشہ میں سرایت کر چکا ہو تو پھر خدا کی قسم ! میں اس سے بہت زیادہ کا فر ہوں جتنا تم مجھے سمجھتے ہو۔یہی عقیدہ ہمارا ہے بلکہ ہم میں سے ہر احمدی کا یہی عقیدہ ہے اور جو شخص اس عقیدہ سے ذرہ بھر بھی اِدھر اُدھر ہو جائے وہ احمدی نہیں رہ سکتا۔کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب اور اُس کا وصال محمد ﷺ کی کامل اطاعت میں ہے۔اِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ الله فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله کے پر ہمارا کامل یقین وایمان ہے۔یہ قرآن کی آیت ہے اور جو شخص قرآن کو مانتا ہو وہ اس آیت کے ماتحت لازمی طور پر یہ عقیدہ رکھے گا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا اب ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ انسان رسول کریم ﷺ کی متابعت میں فنا ہو جائے۔لطیفہ یہ ہے کہ یہ لوگ خود رسول کریم ﷺ کی عملا بہتک کرتے ہیں مگر الزام ہم پر لگاتے ہیں کہ گویا ہم ( نَعُوذُ بِالله ) رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتے ہیں۔گو عقیدہ ہم ان کے متعلق بھی یہ نہیں سمجھتے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتے ہیں۔کیونکہ کوئی شخص مسلمان کہلاتے ہوئے دانستہ رسول کریم ﷺ کی ہتک نہیں کر سکتا۔مگر بعض دفعہ انسان غلطی سے نادانستہ طور پر ہتک کا مرتکب ہو جاتا ہے۔یہی حال ان کا ہے۔وہ بھی گو عقیدۃ رسول کریم ﷺ کی ہتک نہیں کرتے مگر عملاً آپ کی ہتک کرتے ہیں۔چنانچہ ان کا ای عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں اور رسول کریم وہ فوت ہو کر زمین میں دفن ہو چکے ہیں۔اب یہ صاف بات ہے کہ جو نبی آسمان پر اپنے جسد عنصری کے ساتھ زندہ موجود ہو اور دنیا کے فسادات کو مٹانے اور دین کی کمزوری کو دور کرنے کے لئے اُسی نے آخری زمانہ میں اتر نا ہوا اور پھر نبی بھی وہ مستقل ہو یعنی رسول کریم ﷺ کی اطاعت اور پیروی سے اس نے مقام نبوت حاصل نہ کیا ہو اور نہ اُس کا کام رسول کریم ﷺ کی طرف منسوب ہو سکتا ہو وہ بہر حال اُس نبی سے بڑا ہو گا جو زمین میں دفن ہے۔تو یہ لوگ عملاً رسول کریم ﷺ کی بہتک کرتے اور حضرت عیسی علیہ السلام کو آپ کے سے افضل قرار دیتے ہیں مگر ہم لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت یہ یقین اور ایمان رکھتے ہیں کہ وہ رسول کریم ﷺ کے غلام ہیں اور آپ نے جو درجہ بھی حاصل کیا وہ رسول کریم ﷺ کی اطاعت اور غلامی سے حاصل کیا پس آپ رسول کریم ﷺ کے شاگرد ہیں۔اور یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ شاگرد جو بھی کام کرتا ہے وہ اُس کے اُستاد اور آقا کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ہر شخص جانتا ہے کہ