خطبات محمود (جلد 18) — Page 335
خطبات محمود ۳۳۵ سال ۱۹۳۷ء ایک سوال اور بھی ہے کہ اگر خلافت کے عزل کا سوال آزاد کمیشن سے طے کرایا جا سکتا ہے تو ی خلیفہ مقرر بھی کیوں غیر احمدیوں کی ایک کمیٹی سے نہ کروایا جائے۔آخر میں میں ایک اور شبہ کا ازالہ کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس فتنہ کو اہمیت کیوں دی جاتی ہے؟ مصری صاحب یا ان کے ساتھیوں کی حیثیت ہی کیا ہے۔ایسے لوگوں کی واقفیت کیلئے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسے اہمیت مصری صاحب کی حیثیت کی وجہ سے نہیں دی جاتی بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ احراریوں ، مستریوں اور پیغامیوں کے نمائندہ ہیں۔بلکہ شبہ ہے کہ بعض حکام سے بھی ان کے تعلقات ہیں۔یا کم سے کم ان کے بعض ساتھی ایسا کہتے ہیں اور چونکہ بعض حکام نیز احرار اور پیغامیوں کی امداد ان کی پشت پر ہے اور وہ مل کر حملہ کر رہے ہیں ، اس لئے ہمارا فرض ہے کہ جماعتی طور پر اس فتنہ کا مقابلہ کریں اور اسے کچل دیں۔احرار کے فتنہ نے ہمارے ایمانوں کو بیشک خراب نہیں کیا مگر ڈ نیوی طور پر تو انہوں نے ضرور دق کیا ہے۔اسی کی طرح ان لوگوں کے متعلق خیال ہے کہ یہ سلسلہ کیلئے مشکلات نہ پیدا کریں۔پھر اس کے علاوہ ہمارا فرض صرف یہی نہیں کہ احمدیوں کی حفاظت کریں بلکہ جن لوگوں کو ہم نے احمدی بنایا ہے ان کی حفاظت کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔یہ لوگ باہر ہمارے خلاف بہت پرو پیگنڈا کر رہے ہیں اور غیر احمدیوں میں اپنا ز ہر پھیلا رہے ہیں۔کئی جگہ سے ہمارے دوستوں نے لکھا ہے کہ ہم نے ان کے اشتہار تقسیم کر نیوالوں سے مانگے تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ ہمیں ہدایت ہے کہ آپ لوگوں کو نہ دیئے جائیں۔پس ہماری جماعت چونکہ ایک تبلیغی جماعت ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ اپنی آواز کو ان لوگوں تک پہنچائیں جن کے دلوں میں یہ زہر بھرا جا رہا ہے۔پھر اس کی وجہ بعض خواب بھی ہیں۔جیسا کہ میں نے سُنایا تھا کہ میری ہمشیرہ کو خواب میں بتایا گیا کہ ان دنوں خاص طور پر رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ جائے۔پھر ایک میرا اپنا خواب ہے جو سال گزشتہ میں چھپ چکا ہے کہ بعض منافق بھاگ کر بلوں میں ج کھس گئے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ یہ تو خطر ناک بات ہے۔ایسا نہ ہو یہ لوگ موقع پا کر پھر کسی وقت ہم پر حملہ کر دیں۔پس منافق کا چونکہ پتہ نہیں ہوتا اس لئے اُس تک آواز پہنچانے کا بھی یہی طریق ہے کہ کی پورے زور کے ساتھ آواز بلند کریں تا وہ جہاں کہیں بھی چھپا بیٹھا ہو، ہماری آواز کو سن سکے۔ہماری جماعت میں بھی بعض کمزور لوگ ہیں اور ان کو بچانا بھی ہمارا فرض ہے۔یہ کہنا کہ ایسے لوگوں کو چھوڑ دو صحیح