خطبات محمود (جلد 18) — Page 326
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء ان کی یہ تشریح کہ عزت سے مراد عام عزت تھی نہ کہ خلیفہ وقت کے مقابل پر عزت ، کس قدر غلط ہے۔بات بالکل واضح ہے کہ ان کا دعویٰ خلیفہ کے مقابل پر ہے۔وہ بی اے مولوی فاضل اور ایک علمی مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر تھے کیا وہ اردو زبان کے ابتدائی قواعد سے بھی واقف نہیں ہیں کہ ایسی باتیں کرتے ہیں یا یہ کہ وہ واقف تو ہیں مگر لوگوں کو غلط فہمی میں ڈالنا چاہتے ہیں۔پس گو اس میں شبہ نہیں کہ خالی عزت کا دعویٰ اور خلیفہ کے مقابل پر عزت کا دعوی دو الگ الگ باتیں ہیں مگر ان کا دعویٰ جیسا کہ میں نے ثابت کیا ہے خلیفہ کے مقابل پر ہے وہ اس امر میں تو ازن کرتے ہیں کہ جماعت میں میری بات مانے گی یا خلیفہ کی۔اور فیصلہ کرتے ہیں کہ میری مانے گی۔ایک اور طرح بھی اس فقرہ کو حل کیا جا سکتا ہے یعنی ان کے بتائے ہوئے مطلب کو فقرہ میں شامل کر کے دیکھا جائے کہ کیا اس کے کوئی معقول معنے بھی بن سکتے ہیں۔سوان کے بیان کردہ مطلب کو اگر فقرہ میں داخل کیا جائے تو فقرہ یوں بنتا ہے مجھے آپ کے مقابلہ پر کوئی دعوئی عزت کا نہیں مجھے تو صرف مدرسہ احمدیہ میں عزت حاصل ہے اس لئے جب میں آپ کے بالمقابل کھڑا ہو کر آپ پر اعتراض کروں گا جماعت میری بات ضرور سنے گی اور اسے میری بات سننی پڑے گی۔کیا اس قسم کا فقرہ احمقانہ فقرہ کہلائے گا یا نہیں ؟ کیونکہ سبب مسبب کا موجب نہیں ہے بلکہ اس کے مخالف ہے۔اگر ایسا فقرہ کہنا جائز ہو تو پھر یہ کہنا بھی جائز ہوگا کہ دیکھو فلاں شخص کا سانس نہیں چلتا اس لئے وہ زندہ ہے اور فلاں شخص چونکہ دوڑ رہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مر چکا ہے۔اگر مصری صاحب کا پہلا فقرہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مجھے آپ کے مقابلہ میں عزت حاصل نہیں تو اس کا نتیجہ کیونکر نکلا کہ جماعت ان کی بات سُنے گی۔اگر اس فقرہ کا وہ مطلب تھا تو نتیجہ یہ نکلنا چاہئے تھا کہ جماعت ان کی بات نہیں سنے گی۔پھر مصری صاحب کہتے ہیں کہ میں نے تو لکھا تھا کہ آپ جانتے تھے اس لئے میرا دعویٰ ماضی کے متعلق تھا موجودہ زمانہ کے متعلق تو نہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا ماضی کا تکبر تکبر نہیں ہوتا ؟ اگر کوئی شخص کہے میں نے تو کل کہا تھا کہ میں خدا ہوں آج تو نہیں کہا ، آج لوگ مجھ پر کیوں اعتراض کرتے ہیں۔تو ی کیا اس کا یہ کہنا درست ہو گا ؟ ہم اس شخص سے کہیں گے کہ تم نے تو بہ کب کی کہ اعتراض سے بچ جاؤ۔یہی ہم مصری صاحب سے کہتے ہیں کہ اگر یہ فقرہ ماضی کا تھا تو کیا آپ نے اپنے اس خیال سے تو بہ کر لی ہے؟ اگر سوال یہ ہوتا کہ اب آپ کو عزت حاصل ہے یا نہیں تو آپ کا جواب کافی تھا۔مگر سوال تو یہ ہے