خطبات محمود (جلد 18) — Page 299
خطبات محمود ۲۹۹ سال ۱۹۳۷ء بیعت میں عورتوں اور بچوں کی بیعت بھی شامل سمجھی جاتی تھی۔یا ممکن ہے بعض عورتیں شوقیہ طور پر یا بعض مصالح کے ماتحت بیعت میں شامل ہو جاتی ہوں لیکن ملک کے تمام مردوں ، تمام عورتوں اور تمام بچوں کی کے بیعت کرنے کا ثبوت کم از کم میری نگاہ سے کوئی نہیں گزرا۔پس حضرت عائشہ کا بیعت نہ کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔عورتوں سے بلکہ دُور دراز کے مردوں سے بھی بیعت کا خاص تعہد نہ ہوتا تھا۔جب عام بیعت ہو جاتی تو باقی توابع اور عورتوں کی بیعت بیچ میں ہی شامل سمجھی جاتی تھی۔ان حالات میں جب تک کوئی یہ ثابت نہ کر دے کہ اُس زمانہ میں تمام عورتیں خلفاء کی بیعت کیا کرتی تھیں اور حضرت عائشہ نے بیعت نہ کی تھی اُس وقت تک حضرت عائشہؓ عنہا کے بیعت کا ثبوت تاریخ میں نہ ملنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔پھر صریح طور پر تاریخوں میں آتا ہے کہ گو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ابتدا میں مقابلہ کرنا چاہا تھا مگر جس وقت حضرت علیؓ کے لشکر اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے لشکر میں لڑائی کی ہوئی ہے، اُس وقت وہ لڑائی کیلئے نہیں بلہ صلح کیلئے نکلی تھیں۔چنانچہ جتنے معتبر راوی ہیں وہ تو اتر اور تسلسل سے یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ اسی لئے نکلی تھیں کہ وہ دونوں لشکروں میں صلح کرائیں۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے حضرت علی کی اس شرط پر بیعت کی تھی کہ وہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے جلد سے جلد بدلہ لیں گے۔یہ شرط ان کے خیال میں چونکہ حضرت علیؓ نے کی پوری نہ کی اِس لئے شرعاً وہ اپنے آپ کو بیعت سے آزاد خیال کرتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اس سے قبل حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کیلئے جہاد کا اعلان کر چکی تھیں اور صحابہ کو اُنہوں نے کی اپنی مدد کیلئے طلب کیا تھا۔اس پر لوگوں کا ایک حصہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے ساتھ ہو گیا اور انہوں نے جنگ کیلئے ایک لشکر تیار کیا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے بھی ایک لشکر تیار کیا۔لیکن جب دونوں لشکر اکٹھے ہوئے تو دوسرے صحابہ نے دونوں فریقی کو سمجھانا شروع کیا اور آخر صلح کا فیصلہ ہو گیا۔جب یہ خبر اس فتنہ کے بانیوں کو پہنچی تو انہیں سخت گھبراہٹ کی ہوئی اور انہوں نے مشورہ کیا کہ جس طرح بھی ہو صلح نہ ہونے دو کیونکہ اگر صلح ہو گئی تو ہمارے بھانڈے پھوٹ جائیں گے۔چنانچہ جب رات ہوئی تو انہوں نے صلح کو روکنے کیلئے یہ تدبیر کی کہ ان میں سے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے انہوں نے حضرت عائشہؓ اور حضرت طلحہ و زبیر کے لشکر پر اور جو ان کے لشکر میں تھے انہوں نے حضرت علیؓ کے لشکر پر شبخون مار دیا اور ہر فریق نے یہ خیال کیا کہ دوسرے فریق