خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 284

خطبات محمود ۲۸۴ سال ۱۹۳۷ء کا علم ہونے کے وہ بھی جماعت میں رہتے اور میاں فخر دین صاحب بھی اور میاں عبد العزیز بھی۔گویا میرے عیوب مستقل وجود نہیں رکھتے وہ صرف فخر دین صاحب کے اخراج کے ساتھ مل کر مکمل ہوتے ہی ہیں۔پس اس سے صاف ثابت ہے کہ ان خطوط کے لکھنے کا محرک پارٹی کے ٹوٹنے کا خدشہ یا غصہ تھا۔تیسرے خط میں شیخ صاحب نے لکھا ہے کہ مجھے معلوم ہو چکا ہے اب آپ سے نرمی کرنا سلسلہ کے ساتھ غداری ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ دو سال تک یہ مسئلہ کیوں نہ سُوجھا۔۱۳ روز کے اندر اندر ہی یہ رموز ان پر گھلے ، دو سال پہلے کیوں نہ کھلے۔اس الزاموں والے خط میں بعض جگہ تو الزام نمایاں ہیں گو مجمل اور تشنہ تفصیل اور بعض جگہ یہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ وہ کہتے کیا ہیں۔ان دونوں طریقوں سے صاف پتہ لگتا ہے کہ پہلا خط اس غرض سے تھا کہ دھمکیوں سے ڈر کر میں ان کی بات مان لوں اور وہ جو چاہیں مجھ کو سے کراسکیں۔جیسے دلی میں بادشاہ گر ہوتے تھے یہ خلیفہ گر بننا چاہتے تھے۔وہ چاہتے تھے کہ ظاہر میں تو میں لیکن باطن میں وہ خلیفہ ہوں۔مگر انہیں کیا معلوم کہ خدا اور انسان کے بنائے ہوئے خلفاء میں کیا فرق ہوتا ہے۔خدا کا بنایا ہو اخلیفہ کبھی کسی سے نہیں ڈرتا۔کیا میں اس بات سے ڈر جاؤں گا کہ لوگ مرتد ہو جائیں گے؟ جس کے لئے ارتداد مقدر ہے وہ کل کی بجائے بیشک آج ہی مرتد ہو جائے ، مجھے کیا فکری ہے۔میں جب جانتا ہوں کہ میں خدا کا بنایا ہو ا خلیفہ ہوں تو خواہ ایک آدمی بھی میرے ساتھ نہ ہو تو بھی مجھے کیا ڈر ہے۔جب خدا تعالیٰ خود مجھے تسلیاں دیتا ہے تو میں انسانوں سے کیوں ڈروں۔ادھر یہ لوگ مجھے ڈراتے اور اُدھر خدا تعالیٰ مجھے تسلیاں دیتا ہے۔ان چند روز میں اس کثرت سے مجھے الہام اور رویا ہوئے ہیں کہ گزشتہ دوسال میں اتنے نہ ہوئے ہوں گے۔ابھی چند روز ہوئے کہ مجھے الہام ہو ا جو اپنے کی اندر دعا کا رنگ رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اے خدا ! میں چاروں طرف سے مشکلات میں گھرا ہوا ہوں تو میری مددفر ما“۔اور پھر اس کے تین چار روز بعد الہام ہو ا جو گویا اس کا جواب ہے کہ ” میں تیری مشکلات کوڈ ورکروں گا اور تھوڑے ہی دنوں میں تیرے دشمنوں کو تباہ کر دوں گا۔آخری الفاظ ” تباہ کر دوں گا یا بر باد کروں گا یا مٹا دوں گا “ تھے، صیح طور پر یاد نہیں رہے۔تو جب خدا تعالیٰ خود مجھے تسلیاں دیتا ہے تو میں بندوں سے کیوں ڈروں۔اور کیا ان واقعات کے بعد میں کسی بندے پر اعتماد کر سکتا ہوں ؟ شیخ عبد الرحمن مصری میرے بچپن کے دوست تھے مگر آج ان کے اقرار کے بموجب وہ دو سال سے میر خلاف مواد جمع کر رہے تھے مگر ہماری تازہ تحقیق کے مطابق اس سے بھی بہت پہلے سے کینہ دل میں