خطبات محمود (جلد 18) — Page 276
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء شخص مجھ پر کوئی الزام لگائے میرے ماننے والے اسے جھوٹا یا فاسق یا منافق کہہ دیں تو یہ بلا تحقیق نہیں ہوگا۔ہاں جب وہ اپنی بات کو ثابت کر کے کسی کو اپنا ہم خیال بنالے تو پھر اس کا معاملہ دوسرا ہو گا۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ ادھر تو مصری صاحب مانتے ہیں کہ انہوں نے مجھ پر ایسے الزام لگائے ہیں جن کی وجہ سے میں خلیفہ نہیں رہ سکتا اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جماعت میں بہت لوگ دہر یہ ہو گئے ہیں اور بہت ہورہے ہیں۔لیکن دوسری طرف اپنے متعلق مرتد یا منافق یا فاسق کے الفاظ بھی انہیں گوارا نہیں ہیں۔سوال یہ ہے کہ دہر یہ بڑی گالی ہے یا منافق اور فاسق وغیرہ؟ وہ اپنا حق تو سمجھتے ہیں کہ جماعت کے بہت سے حصہ کو دہریہ قرار دیں اور بہت سے حصہ کو دہریت کی طرف مائل بتا ئیں۔مگر اس نے کے جواب میں اگر جماعت کہے کہ تمہاری اپنی بینائی میں فرق آ گیا ہے اور تم خود مرتد ، منافق اور فاسق ہو چکے ہوا اور تمہیں اچھی چیز بھی بُری نظر آنے لگی ہے تو وہ اس کو برداشت نہیں کر سکتے۔ڈاکٹر عبد الحکیم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھا تھا کہ سوائے مولوی نور الدین اوی صاحب کے باقی سب جماعت گندی ہے اور کوئی ان میں سے اعلی نمونہ پر نہیں پہنچا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ آؤ تحقیقات کریں بلکہ آپ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ میری جماعت بالکل ٹھیک ہے اور اگر اس میں تمہیں کوئی عیب نظر آتا ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ تم خود عیب دار ہو اس لئے میں تمہیں جماعت سے خارج کرتا ہوں۔بیشک میں خود بھی بعض اوقات جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ بعض دوستوں میں کمزوریاں ہیں اور انہیں چاہئے کہ ان کو دور کریں مگر بعض دوستوں میں کمزوریوں کا ہونا اور بات ہے اور بہت سے لوگوں کا دہر یہ ہونا اور۔دہریت کے بعد باقی کیا رہ جاتا ہے۔پس بعض احباب میں ایسی عملی کمزوریوں کے باوجود جو ایمان کے ہوتے ہوئے بھی پائی جاسکتی ہیں یہ کہنا کہ دہریت جماعت کے اندر پیدا ہو چکی ہے، اتنی بڑی گالی اور اتنا بڑا ظلم ہے کہ اس سے زیادہ ظلم اور بڑی گالی ہو ہی نہیں سکتی۔معلوم ہوتا ہے شاید خود ان کے دل میں ایمان نہ تھا ورنہ وہ دہریت کو اتنی ہی معمولی بات نہ سمجھتے مگر عجیب بات ہے کہ وہ فاسق اور منافق کے الفاظ کو تو بڑی گالی سمجھتے ہیں مگر دوسروں کیلئے دہریہ کا لفظ بلا تکلف استعمال کرتے ہیں۔اس کے معنی یہی ہیں کہ ان کے نزدیک دہریت بالکل معمولی چیز ہے۔ایک مسلمان کو کہو کہ تم تناسخ کے قائل ہو تو وہ اسے بڑی گالی سمجھے گا۔لیکن اگر کسی ہندو کو کہو تو وہ بُر انہیں منائے گا کیونکہ وہ اس کا قائل ہے۔اسی طرح ان کا دوسروں کو اس بے تکلفی سے دہریہ