خطبات محمود (جلد 18) — Page 258
خطبات محمود ۲۵۸ سال ۱۹۳۷ء باوجود اس بات کے جاننے کے کہ یہ جماعت صحابہ کی جماعت ہے میں سمجھتا ہوں کہ بوجہ عدم علم یا عدم تربیت دانستہ طور پر نہیں بلکہ نا دانستہ طور پر ممکن ہے کسی سے کوئی کمزوری سرزد ہو جائے اور بعض دفعہ کچھ لوگ جو منافق ہوتے ہیں خود ہی کوئی شرارت کھڑی کر دیتے ہیں۔اور پھر کچھ لوگ حالات سے نا واقف ہوتے ہیں وہ اپنی نا واقفیت کی وجہ سے ٹھو کر کھا جاتے ہیں۔لیکن بہر حال میں دعوئی سے کہتا - ہوں کہ یہ جماعت صداقت پر قائم ہے اور اس کی اکثریت نیک اور متقی لوگوں پر مشتمل ہے۔پھر بھی چونکہ ہر جماعت میں کچھ نہ کچھ کمز ور لوگ ہوتے ہیں اور وہ غلطی کر سکتے ہیں اس لئے میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے ہی اشتعال کے موقع پر انسان کے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے۔پس اپنے ایمانوں کو درست رکھو اور کبھی کوئی ایسی حرکت نہ کرو جو اسلام اور شریعت کے خلاف ہو۔تم کو اس بات کا احساس ہو یا نہ ہولیکن میرے دل میں خلافت کی ایک بکری کی مینگن کے برابر بھی قیمت نہیں ہو سکتی اگر اس کی تائید کیلئے جھوٹ اور فریب سے کام لیا جائے۔خلافت اُسی وقت تک قابل قدر ہے جب تک صداقت کی تلوار سے اس پر حملہ آوروں کا مقابلہ کیا جائے اور انصاف کے تیروں سے اس کی حفاظت کی جائے۔پس یا درکھو کہ خواہ کیسی ہی حالت پیش آئے تم عدل و انصاف کو نہ چھوڑو اور جو سچائی ہوا سے ہے اختیار کرو تا دشمن کو تمہارے متعلق کسی قسم کے اعتراض کا موقع نہ ملے۔اور یا د رکھو کہ اگر کوئی شخص تمہیں جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتا ہے تو خواہ وہ ناظر ہی کیوں نہ ہو تم فوراً اُس کی رپورٹ میرے پاس کروانی کیونکہ ہمارے پاس ایمان کے سوا اور کوئی چیز نہیں ، ہم کنگال اور خالی ہاتھ ہیں۔اگر ایمان کی دولت بھی ہمارے ہاتھ میں نہ رہی اور اگر ہم نے اسے بھی چھوڑ دیا تو پھر ہماری جماعت کی حالت وہی ہوگی جو کسی شاعر نے یوں کھینچی ہے کہ ے خدا ہی ملا وصالِ صنم ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے پس صداقت اور انصاف سے کام لو اور غیرت، قربانی اور ایثار کا مظاہر ہ کرو مگر یا در کھوتم نے ظلم نہیں کرنا اور جھوٹ نہیں بولنا اور اگر کوئی شخص تمہیں ظلم کرنے یا جھوٹ بولنے کی تعلیم دیتا ہے تمہیں کہتا ہے ہے جاؤ اور اپنے دشمن کو مار آدیا جاؤ اور اسے پیٹو ، تو تم فوراً سمجھ جاؤ کہ تمہارے سامنے ایمان کا جبہ پہنے۔