خطبات محمود (جلد 18) — Page 241
خطبات محمود ۲۴۱ سال ۱۹۳۷ء میں بیٹھ کر دوسروں کو دیکھے۔کیا مصری صاحب اگر اپنے گھر بیٹھ کر کسی کو دیکھیں تو ہم انہیں روک سکتے ؟ ہیں؟ اگر اسی قسم کے تمسخر کو ہم بھی کام میں لانے والے ہوتے تو ہم شور مچا دیتے کہ مصری صاحب اور ان کے دوست برآمدہ میں بیٹھے رہتے اور ہمارے آدمیوں کی نقل وحرکت کا پتہ لگاتے رہتے ہیں۔کیونکہ جس طرح ہمارے آدمی انہیں دیکھتے ہیں اسی طرح وہ ہمارے آدمیوں کو دیکھتے ہیں ان دونوں میں فرق کو نسا نی ہے۔اگر ہمارے آدمیوں کا دیکھنا منع ہے تو ان کے آدمیوں کا ہمارے آدمیوں کو دیکھنا بھی منع ہونا چاہئے اور کیا لوگ ہنسیں گے نہیں اگر ناظر صاحب امور عامہ ایک بڑا سا اشتہار شائع کر دیں جس پر موٹے حروف میں لکھا ہوا ہو کہ مصری صاحب کے تازہ مظالم اور نیچے یہ درج ہو کہ مصری صاحب اور فخر الدین اور عبدالعزیز اپنے مکان کے برآمدہ میں بیٹھ کر ہمارے آدمیوں کو دیکھتے اور ہر وقت ان کی دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں پھر اسی رنگ میں ان کا شور مچانا کیا حقیقت رکھتا ہے۔جس طرح ہمارے آدمی انہیں دیکھتے ہیں اسی طرح ان کے آدمی ہمارے آدمیوں کو دیکھتے ہیں۔اس میں حرج کی کونسی بات ہے۔پھر یہ کہنا کہ ضروریات زندگی کے حصول میں روکیں ڈالی جارہی ہیں یہ بھی بالکل غلط ہے۔میرا حکم تھا کہ جو چیزیں ضروریات زندگی میں سے ہیں ان کے حصول میں ہرگز روکیں نہ ڈالی جائیں اور یہی محکمہ کی رپورٹ ہے کہ ضروریات زندگی کے حصول میں کوئی روک نہیں ڈالی گئی۔علاوہ ازیں یہ امر قابلِ غور ہے کہ جس قدر احمدیوں کی یہاں دُکانیں ہیں قریباً اتنی ہی دکانیں سکھوں ، ہندوؤں اور ނ غیر احمد یوں کی ہیں اور وہ ان سے ہر وقت اشیاء خرید سکتے ہیں۔اگر کہیں کہ ہم سکھوں اور ہندوؤں۔نہیں خرید سکتے تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ان سے خریدنے کی ممانعت کا باعث جماعت کا ایک باہمی سمجھوتہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حکم اس بارہ میں کوئی نہیں ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ حکم ہوتا تب تو وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم اس حکم کی خلاف ورزی کس طرح کر سکتے ہیں۔مگر جب کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حکم ہی نہیں بلکہ میرا حکم ہے جو بعض فسادات کی کے رونما ہونے پر جماعت کے مشورہ سے صرف ان لوگوں کو جو خود اس کا عہد باندھنے کا اقرار کرتے تھے دیا گیا تو مصری صاحب کیلئے اس کی تعمیل ضروری نہیں۔وہ تو میری بیعت میں سے نکل گئے اور تمام عہد و پیمان جو انہوں نے مجھ سے کئے تھے ان سے آزاد ہو گئے۔اب وہ بالکل آزاد ہیں اور ہندوؤں اور سکھوں سے چیزیں خرید سکتے ہیں۔پھر ان کا یہ شور مچانا کس طرح حق بجانب سمجھا جا سکتا ہے کہ قادیان۔