خطبات محمود (جلد 18) — Page 240
خطبات محمود ۲۴۰ سال ۱۹۳۷ء آجاتے ہیں اور اگر واقعہ میں ناکہ بندی ہے تو میاں فخر الدین اور حکیم عبدالعزیز ان کے مکان پر کس طرح پہنچ جاتے ہیں۔ناکہ بندی کی صورت میں تو کوئی شخص مکان کے اندر داخل نہیں ہوسکتا اور نہ باہر نکل سکتا ہے۔ہاں اس سے ہمیں انکار نہیں کہ بعض پہرہ دار امور عامہ نے یہ دیکھنے کیلئے مقرر کئے ہوئے ہیں کہ وہ منافقین جن کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ ہیں، کون کون ہیں۔یہی وہ بات ہے جس کی کا انہیں دراصل شکوہ ہے اور کہتے ہیں ہمارے دوستوں کو ہم سے ملنے کیوں نہیں دیتے۔حالانکہ کوئی شخص کی ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے کہ میں ان سے ملنے جارہا تھا مگر مجھے ملنے سے روک دیا گیا۔ہم تو چاہتے ہیں کہ جانے والے جائیں تا ہمیں پتہ لگے کہ کون لوگ دل سے ان کے ساتھ ہیں اور ہمیں دھوکا دے رہے ہیں تا انہیں بھی ہم جماعت سے نکال دیں۔پس ہماری غرض یہ نہیں کہ کوئی شخص ان سے بات نہ کرے بلکہ ہماری غرض یہ ہے کہ اگر کوئی ان سے بات کرنے والا ہے تو اس کا ہمیں علم ہو جائے اور وہ ہمارے اندر سے نکل جائے۔پس ہمارے آدمی پہرہ پر اس لئے مقررنہیں کہ کسی کو روکیں بلکہ اس لئے مقرر ہیں کہ جب کوئی وہاں جائے تو اس کی خدمت میں یہ عرض کر دیں کہ اب آپ یہیں تشریف رکھیں ہمارے ساتھ آپ کا کوئی تعلق نہیں۔اسی طرح اگر مصری صاحب کی حرکات کی کوئی شخص نگرانی کرتا ہے تو یقیناً اس لئے کہ ی اسے معلوم ہو جائے کہ مصری صاحب کس کس شخص کے ہاں جاتے ہیں تا جماعت ان لوگوں۔درخواست کرے کہ منافقت کی کیا ضرورت ہے تم دلیری سے ان کے ساتھ شامل ہو جاؤ۔اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جو قانوناً ، اخلاقاً یا مذہباً معیوب اور نا روا ہو۔ہر مذہبی جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی جماعت کے لوگوں کی نگرانی کرے اور ہم بھی ان کی اسی لئے نگرانی کرتے ہیں تا ہمارے اندر وہی رہے جو ہمارا ہم خیال ہو اور جو ہمارا ہم خیال نہیں وہ ہم سے علیحدہ ہو جائے۔یہ حق ہر مذہبی جماعت کو حاصل ہے اور اسی حق کا ہم استعمال کر رہے ہیں۔اس کا نام ناکہ بندی رکھنا بتاتا ہے کہ مصری صاحب گویا اس ملک کے باشندے ہی نہیں اور وہ عربی ہی جانتے ہیں ، اُردو سمجھ ہی نہیں سکتے۔پس جو پہرہ ہے وہ مصری صاحب پر نہیں بلکہ اپنے لوگوں پر ہے، یہ دیکھنے کیلئے کہ ان سے کون ملتا ہے۔پس پہرہ دار اس لئے کھڑے نہیں کئے گئے کہ مصری صاحب کسی سے نہ ملیں بلکہ اس لئے کھڑے کئے گئے ہیں کہ جو ہماری جماعت میں سے ان سے ملتا ہو اُس کا پتہ لگا ئیں۔اور یہ ہر شخص کا حق ہے کہ وہ اپنے مکانوں اور گھروں