خطبات محمود (جلد 18) — Page 239
خطبات محمود ۲۳۹ سال ۱۹۳۷ء جماعت سے ہی کہتے کہ وہ ان کی تکلیفوں کے متعلق تحقیق کرے۔انہوں نے جماعت کے دلوں میں ایک آگ لگادی ہے، ان کے سینوں میں یہ کہہ کر نا سور ڈال دیئے ہیں کہ جماعت کا اکثر حصہ دہر یہ ہو گیا ہے۔مگر دوسروں کے گھروں کو آگ لگا کر انہیں بلاتے اور کہتے ہیں آؤ اور میرے چولہے میں پانی ڈالو۔پس اس الزام کے بعد ہرگز ان کا کوئی حق نہ تھا کہ میں تحقیقات کرتا اور دریافت کرتا کہ مصری صاحب جو کچھ کہہ رہے تھے وہ کہاں تک درست ہے۔مگر جب میرے پاس رپورٹ پہنچی تو میں نے تَرَحُمًا ناظر صاحب امور عامہ کو بلایا اور انہیں کہا کہ وہ تحقیقات کریں اور ر پورٹ کریں کہ ان واقعات میں کس حد تک اصلیت ہے۔اور اگر کسی کی غلطی معلوم ہو تو اُس کا معاملہ پیش کریں۔اس پر انہوں نے مصری صاحب کو دکھی لکھی کہ آپ اُن مزدوروں کے نام بتائیں جنہیں کام کرنے سے روکا گیا اور اُن دُکانداروں کے نام بتائیں جنہوں نے سو داد دینے سے انکار کیا تا اس کے متعلق تحقیقات کی جائے اور اگر کی کسی شخص کا قصور ثابت ہو تو اسے مناسب سزا دی جائے۔اس کا جو جواب مصری صاحب نے دیا اس کے متعلق میں نے ہدایت کر دی تھی کہ وہ تمام مساجد میں سنا دیا جائے۔اور میں بھی تفصیل سے ابھی اس کا ذکر کروں گا۔فی الحال میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ مصری صاحب نے نام پیش کرنے سے انکار کر دیا۔آخر مجبوراً ناظر صاحب امور عامہ کو خود تحقیقات کرنی پڑی اور انہوں نے تحقیق کر کے جور پورٹ کی وہ یہ ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ ان کے گھر کی ناکہ بندی کی گئی یہ بالکل غلط ہے۔ناکہ بندی کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ نہ گھر سے کسی شخص کو نکلنے دیا جائے اور نہ باہر سے کسی شخص کو گھر میں داخل ہونے دیا جائے۔مصری کہلا کر اگر اب وہ اردو بھول گئے ہوں اور ناکہ بندی کی جو اصطلاح ہے اس کے معنے اُن کے ذہن سے اُتر گئے ہوں تو یہ اور بات ہے لیکن یہ بات معمولی علم رکھنے والا انسان بھی جانتا ہے کہ ناکہ بندی کیسے کہتے ہیں۔یہاں پولیس کے سپاہی موجود ہیں ان سے دریافت کیا جاسکتا ہے کہ ناکہ بندی کسے کہتے ہیں۔ہر شخص کہے گا کہ ناکہ بندی اسی کا نام ہے کہ نہ کسی کو گھر کے اندر جانے دیا جائے اور نہ کسی کو گھر سے باہر نکلنے دیا جائے۔اب اگر یہ صحیح ہے کہ ان کی ناکہ بندی کی گئی تو ان کا یہ اگلا فقرہ کس طرح ان درست ہے کہ ” میرے اوپر چند لونڈے مسلط کئے ہوئے ہیں کہ جدھر میں جاؤں وہ سایہ کی طرح نان میرے پیچھے آئیں“۔جب ان کے مکان کی ناکہ بندی کی جاچکی ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ گھر سے باہر کس طرح