خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 220

خطبات محمود ۲۲۰ سال ۱۹۳۷ء لین دین کے معاملہ میں سختی چھوڑ دے۔کیونکہ جو عقیدہ بچپن سے دل میں ڈالا جاتا ہے اس کا اثر لازمی طور پر چاہئے۔اب ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ جن حالات میں سے جماعت گزر رہی ہے وہ بعض اصول کے ماتحت ہیں یا انفرادی ہیں اور پھر اس کے مطابق جب ہم اصلاح کی کوشش کریں گے اور ذہنیتوں کو بدل کی ڈالیں گے تو پھر ایسے فتنوں کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے گا۔کیونکہ جب پانی پیچھے سے ہی نہیں آئے گا تو اگلے سوراخ خود بخود بند ہو جائیں گے۔اس لئے ہمیں غور کرنا چاہئے کہ کون سے ایسے حالات ہیں جن کے ماتحت بعض لوگوں میں ایسی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں اور ان کو معلوم کر کے یا ان کی غلطی کو دور کریں۔اگر ان کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے تو اس کی اصلاح کریں اور اگر وہ بات محرف و مبدل ہو چکی ہو تو بھی اسے ی ٹھیک کریں۔یہ تمہید چونکہ بہت لمبی ہوگئی ہے اس لئے اس مضمون کو کہ کیا چیزیں ہیں جو اس قسم کے حالات کی پیدا کرتی ہیں اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو اگلے خطبہ میں بیان کروں گا۔میں چاہتا ہوں کہ یہ باتیں اچھی طرح آپ لوگوں کے ذہن نشین کرا دوں کہ وہ کیا کیا با تیں ہیں جو مسلمانوں اور ان سے نکلے ہوئے احمدیوں میں پیدا ہو کر ایسے فتنوں کا موجب ہوتی ہیں اور جب تک اہل علم اور سمجھدارا فرادان باتوں کو ایک ایک شخص کے ذہن نشین کرنے کیلئے تعاون نہ کریں اور کوٹ کوٹ کر ان کے دماغوں میں یہ باتیں داخل نہ کریں جسے انگریزی میں Hammering کہتے ہیں، اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔پس ان باتوں کو سن کر بار بار لوگوں کے سامنے دہراؤ۔یہاں تک کہ ایک گودن ما سے کو دن شخص کے دماغ میں بھی یہ بات بیٹھ جائے۔پھر جب یہ کریکٹر بن جائے گا تو ہر شخص ان۔فائدہ اٹھا سکے گا اور آئندہ نسلوں میں خود بخود یہ باتیں آتی جائیں گی کیونکہ یہی اصول ہیں جن کو بدلے بغیر ہم کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ان کے بغیر جو اصلاح ہوگی عارضی ہو گی۔لوگوں کو مجھ پر اعتماد ہے کہ جب میں نے سمجھا دیا تو لوگ سمجھ جاتے ہیں۔مگر یہ درست نہیں۔سمجھنا ایسا آسان کام نہیں۔ذہنیت میں تبدیلی بہت بڑی محنت چاہتی ہے۔ہاں جب ذہنیت تبدیل ہو جائے تب بیشک حقیقی تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے اور ایک نسل ہی نہیں کئی نسلوں کی اصلاح ہو جاتی ہے اور یہ نیکی کا سلسلہ جاری رہتا ہے حتی کہ جماعت میں پھر بگاڑ پیدا ہو جائے جسے خدا تعالیٰ کا دوسرا مامور آ کر دور کرے۔اس لئے ضروری ہے کہ بچوں کے کی دلوں میں بھی ان باتوں کو بٹھایا جائے۔اسی غرض سے میں نے بورڈ نگ تحریک جدید قائم کیا تھا کہ