خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 219

خطبات محمود ۲۱۹ سال ۱۹۳۷ء یعنی تمہارے لئے بدلہ لینا ضروری ہے۔دیکھنا کبھی رحم نہ کرنا۔چنانچہ ان کا کریکٹر بھی وہی ہے جو ہندوؤں کا ہے۔بلکہ یہودیوں کی اس معاملہ میں سختی کے متعلق تو شیکسپیئر نے ایک ڈرامہ بھی لکھا ہے کہ ایک یہودی نے اپنے کسی مقروض سے لکھوایا ہوا تھا کہ اگر بر وقت رو پیدا دا نہ کیا گیا تو آدھ سیر گوشت تمہارے جسم سے کاٹ لوں گا۔چنانچہ جب روپیہ ادا نہ ہو سکا تو اس نے گوشت کاٹنے پر اصرار کیا۔مقروض کے رشتہ دار بہت روئے ، پیٹے اور منت خوشامد کی کہ اتنا ظلم نہ کرو۔مگر اس نے ایک نہ مانی اور ان اپنی بات پر مصر رہا۔آخر ایک عقلمند بیچ میں آگیا اور اس نے کہا کہ اچھا گوشت کاٹ لو مگر خون کا ایک قطرہ نہ گرے۔کیونکہ یہ تحریر میں نہیں ہے کہ خون بھی گرایا جائے گا اور گوشت بھی آدھا سیر سے بال بھر کم و بیش نہ ہوگا اور چونکہ یہ باتیں اس کے بس میں نہ تھیں اسے دینا پڑا۔اب آجکل جس طرح ہمارے ہاں قرضہ بل اور ساہوکارہ بل بن رہے ہیں، اسی یورپ میں یہودیوں سے سختی ہورہی ہے جرمنی نے یہودیوں کو اپنے ملک سے بالکل ہی نکال دیا ہے۔انگلینڈ میں بھی ایک ایسی پارٹی بن گئی ہے جو ان کے سخت خلاف ہے۔اٹلی میں بھی ان پر سختی کی جارہی ہے۔ہنگری اور بعض اور ممالک میں بھی یہی حالت ہے۔سپین میں بھی ان پر سختی ہوئی ہے۔کیونکہ جس طرح ہندوستان میں سا ہو کار معاف نہیں کر سکتا اسی طرح یورپ میں یہودیوں کا حال ہے۔اور اسی نظریہ کے ماتحت یہودی قوم بھی تجارت میں ترقی کر گئی ہے۔کیونکہ وہ بھی لین دین میں سختی کرتی ہے اور تجارت ایسی سختی سے ہی چل سکتی ہے خواہ یہ بختی بُری ہو۔یہ دونوں قومیں جن کا نظریہ، یہ ہے کہ قرضہ معاف نہیں ہو سکتا دونوں نے تجارت میں ترقی کی ہے۔ایک نے مغرب میں اور دوسرے نے مشرق میں اور دونوں کی ترقی اور تنزل اس نظریہ کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ہندوؤں نے اسی کی بدولت تجارت پر قبضہ کیا ہے اور اگر ان کے خلاف زمینداروں میں جوش ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے۔اسی طرح یہود کا اگر یورپ کی سیاست پر قبضہ ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے اور اگر جرمن نے ان کو ملک سے نکال دیا ہے تو اسی کے باعث۔اب ان لوگوں سے لاکھ بحث کرو کہ شو د بُری چیز ہے، تجارت میں سختی نہیں کرنی چاہئے اور اس کیلئے لاکھ دلائل دو کبھی نہیں مانیں گے۔لیکن جس دن ان کے یہ بات ذہن نشین کر دو کہ اللہ میاں بھی معاف کرتا ہے اور تم بھی معافی کرو تو فوراً ان کا نظریہ بدل جائے گا۔یہی حال یہود کا ہے، جرمنی لاکھ ملتے دکھائے جب تک وہ نظریہ نہ بدلے جو استثناء باب ۱۹ آیت ۲۱ کے ذریعہ قائم کیا گیا ہے۔اُس وقت تک ممکن نہی کہ یہودی سودیا