خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 211

خطبات محمود ۲۱۱ سال ۱۹۳۷ء یہ بھی کہتا ہوں کہ اس سے جماعت کا تو کچھ نہیں بگڑے گا البتہ اس کے وقار کو جو صدمہ پہنچے گا اس کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور تم ذمہ وار ہو گے۔اس پر بعض لوگ کچھ نرم ہوتے ہیں مگر دوسرے پھر ان کو ورغلا دیتے ہیں اور اسی بحث مباحثہ میں میری آنکھ کھل جاتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت اس فتنہ کی جو خلافت کے متعلق اٹھایا جانے والا تھا ، اطلاع دے دی تھی۔مگر یہ پرانے خواب ہیں۔میں ایک تازہ خواب سناتا ہوں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت ایک رنگ میں چل رہی ہے۔مصری صاحب کے اعلان کے بعد پانچ دن کی بات ہے یعنی اتوار اور ہفتہ کی درمیانی شب کی کہ میں جاگ رہا تھا اور گائی طور پر بیدا ر تھا کہ یکدم ربودگی کی حالت طاری ہوئی اور الہی تصرف کے ماتحت کچھ فقرے میرے دماغ پر نازل ہونے شروع ہوئے۔پہلے ایک دو تو جلدی اوی گزر گئے مگر تیسرا یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ تشریف لائے اور بے اختیار زبان سے نکلا مبارک ہو، مبارک ہو اور میرے دل پر یہ اثر ہے کہ یہ مبارک ہو، مبارک ہو میرے نفس کی طرف سے ہے اور پہلا حصہ الہامی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت کی رُوح اس فتنہ کو دبانے کیلئے آ رہی ہے۔اس کی کے بعد میں سو گیا اور میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک دشمن نے مجھ پر حملہ کیا ہے اور میں نے اُس کا گلا گھونٹ دیا ہے اور وہ بیہوش ہو کر گر گیا ہے۔یہ معلوم نہیں مر گیا ہے یا زندہ ہے۔پھر تیسرا نظارہ بدلا اور میں نے دیکھا کہ کوئی شخص ہمارے مکان میں کھس آیا ہے اور میں اُسے پکڑنے کیلئے اُٹھا ہوں۔مگر میری تو آنکھوں پر کنٹوپ پڑا ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نہ ہو وہ مجھ پر حملہ کر دے کیونکہ میری آنکھوں پر تو کنٹوپ ہے۔اس پر میں نے کنٹوپ اُتارنا شروع کیا حتی کہ میری آنکھیں بالکل ننگی ہوگئیں۔مگر اتنے میں وہ بھاگ گیا۔اس میں بتایا گیا ہے کہ ابھی کچھ مخفی مخالف ہیں اور ۱۹۳۵ ء والے رویا میں یہ دکھایا گیا تھا کہ بعض مخالف بلوں میں چُھپ جائیں گے اور بعض کے زخمی ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ ظاہر ہو جائیں گے۔بہر حال وہ چھپ جائیں یا ظاہر ہوں ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت کا وعدہ ہے۔ہمارا خدا دیکھنے والا ہے وہ اگر چھپیں بھی تو کہاں چُھپ سکتے ہیں۔انہیں ظاہر کرا کے یا تو وہ انہیں ہمارے ہاتھوں سے سزا دے گا یا اندر ہی اندر طاعون کے چوہوں کی طرح انہیں مار دے گا اور کسی کو پتہ تک نہیں ہو گا۔سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔وہ اگر چاہے تو ان کے ایمانوں کو سلب کر لے ، ان پر روحانی موت وارد کر دے اور وہ خود ہی بیعت توڑنے کا اعلان کر دیں یا ان کو ذلت دے کر ضرر پہنچانے کے