خطبات محمود (جلد 18) — Page 174
خطبات محمود ۱۷۴ سال ۱۹۳۷ء امور عامہ ہیں رقعہ بھیجا ہے۔میں نے وہ رقعہ کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ لڑکی مل گئی ہے اور وہ فلاں گھر میں کی موجود ہے اور محلے والوں نے مکان پر پہرہ لگا دیا ہے تا وہ کہیں نکل نہ جائے۔اب آپ بتائیں کہ کیا کریں۔میں نے انہیں لکھا کہ جن کے مکان میں وہ رہتی ہے ہمیں معلوم نہیں کہ انہیں سارے حالات کا علم ہے یا نہیں اس لئے آپ انہیں سمجھا دیں کہ یہ شریعت کے خلاف بات ہے اور کسی غیر لڑکی کو اس طرح نکاح میں لے آنا ہرگز جائز نہیں چاہے وہ بالغ ہی کیوں نہ ہو۔پس آپ کو چاہئے کہ لڑکی رشتہ داروں کے سپر د کرا دیں اور اگر وہ لڑکی رشتہ داروں کے سپرد نہ کریں اور معاملہ پولیس کے سپر د ہوسکتا ہوتو پولیس کے پاس پہنچا دیا جائے اور انہیں ہماری طرف سے اچھی طرح سے بتادیا جائے کہ اسلامی شریعت کی رو سے یہ بات جائز نہیں۔اس کے بعد مجھے رات کو کچھ معلوم نہیں ہوا۔البتہ صبح کو ایک عورت میرے پاس آئی جو اس کی لڑکے کی والدہ تھی جس پر یہ الزام لگا کہ اُس نے لڑکی نکالی۔مجھے کہنے لگی میرا خسر پر انا احمدی تھا اور اس نے احمدیت کی خاطر بڑی بڑی تکلیفیں اُٹھا ئیں۔اس لڑکی کے متعلق اس کے رشتہ داروں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ میرے لڑکے سے بیاہ دیں گے لیکن بعد میں ان کی نیت بدل گئی اور انہوں نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔لڑکی کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو وہ بھاگ کر قادیان آ گئی۔اس کے رشتہ دار اس کے پاس پہنچ گئے۔ہم نے انہیں کہا کہ اپنی لڑکی بے شک لے جاؤ مگر وہ لڑکی گئی نہیں۔محلہ کے جو افسر تھے انہیں جب یہ ان معلوم ہو ا تو انہوں نے کہا تم قادیان سے چلے جاؤ۔چنانچہ ہم باہر گئے اور ایک جگہ اس لڑکی سے نکاح پڑھوا کے واپس آگئے۔میں نے اُس عورت کو سمجھایا کہ دیکھو سوال یہ نہیں کہ تمہارے لڑکے نے اب اس لڑکی سے نکاح کر لیا ہے یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ آیا شریعت نے اس نکاح کی اجازت دی ہے یا نہیں۔میں نے کہا تم کہتی ہو کہ ہم نے احمدیت کی خاطر بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا ئیں۔اگر یہ بات درست ہے تو تم خود ہی بتاؤ کہ تم اپنی اس حرکت سے اسلام اور احمدیت کی بدنامی کا موجب بن جاؤ تو کتنے افسوس کی بات ہوگی۔تمہاری تمام تکلیفیں جو تم نے احمدیت کی خاطر برداشت کیں رائیگاں چلی جائیں گی اور تمہاری عاقبت خراب ہو جائے گی۔وہ کہنے لگی لڑکی کہتی تھی کہ میں مر جاؤں گی لیکن کسی اور جگہ نہیں جاؤں گی۔میں نے کہا کہ اگر وہ مرتی تو اُس کا گناہ اُس پر ہوتا تم پر نہ ہوتا یا گورنمنٹ پر اس کی زمہ داری عائد ہوتی تمہارا کام یہی تھا کہ تم اُسے رُخصت کر دیتے اور کہہ دیتے کہ جب تک تمہارا ولی راضی