خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 17

خطبات محمود لا سال ۱۹۳۷ء اعتراض کرتے تھے۔گویا وہ اس دنیا میں نہیں بلکہ کسی اور دنیا میں رہتے ہیں ایسے لوگ شاید اس خیال پر بھی نکتہ چین ہوں مگر مجھے ان کی پرواہ نہیں۔پس یہ بالکل غلط ہے کہ دنیا سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ہمارا ہی تو واسطہ دنیا سے ہے۔جب خدا تعالیٰ نے دنیا ہمیں دے دی ہے اور اس کا وعدہ ہے کہ میں دنیا دوسروں سے چھین کر تمہارے حوالے کر دوں گا تو پھر اگر چہ اس وقت وہ ہمارے قبضہ میں نہیں ہم اس سے کس طرح غافل رہ سکتے ہیں۔ہمیں حضرت سلیمان کے زمانہ کے ایک واقعہ سے سبق لینا چاہئے۔کہتے ہیں ایک شخص کی دو بیویاں تھیں۔دونوں کے ہاں لڑکے تولد ہوئے اور وہ زچگی کے معا بعد دور دراز مقام پر اپنے رشتہ داروں کے ہاں چلی گئیں۔کئی مہینوں کے بعد جب واپس آرہی تھیں تو ایک کے بچہ کو بھیڑیے نے کھا لیا۔دوسری نے کی خیال کیا کہ اس کا خاوند اب اسے محبت نہیں کرے گا کیونکہ اس کے بچہ نہیں اس لئے اس نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ دوسری کے پاس جو لڑ کا ہے وہ دراصل میرا ہے۔یہ جھگڑا حضرت سلیمان کے پاس پہنچا۔آپ نے بچہ کو ہاتھ میں لے لیا اور کہا کہ اس امر کا فیصلہ مشکل ہے کہ دراصل یہ کس کا بچہ ہے میں اسے آدھا آدھا کر کے بانٹ دیتا ہوں۔چنانچہ آپ نے حکم دیا کہ چھری لاؤ اور چھری منگوا کر بچہ کے پیٹ پر رکھ دی گویا کاٹنے لگے ہیں۔یہ دیکھ کر جس کا بچہ مر چکا تھا اُس نے کہا کہ یہ بالکل انصاف ہے پس آپ آدھا کی آدھا بانٹ دیں۔اس نے خیال کیا کہ اس طرح اس کا بچہ بھی مر جائے گا اور ہم دونوں برابر ہو جائیں گی۔مگر ماں کی مامتا جوش میں آئی اور اُس نے کہا حضور ! بچہ در اصل اسی کا ہے میرا نہیں آپ اسے ہی دے دیں۔کیونکہ اُس نے خیال کیا کہ بچہ خواہ اس کے پاس ہی رہے مگر بچ جائے۔اس سے سبق ملتا ہے کہ جس کی چیز ہو وہ اُس کی تباہی کبھی برداشت نہیں کر سکتا۔پس جبکہ ہمارا خدا ہمیں کہتا ہے کہ زمین و آسمان تمہارے لئے ہیں۔پھر وہ لوگ کتنے پاگل ہیں جو کہتے ہیں کہ مصیبت زدگان زلزلہ کے لئے چندہ مت کرو اور ان باتوں پر کہنے لگ جاتے ہیں کہ خلیفہ سیاسی کاموں میں حصہ لیتا ہے۔اگر تمہیں ان کاموں میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں تو تم دنیا کی ملکیت سے دستبردار ہو چکے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کا بیان ہے کہ آپ ایک دفعہ بیت الدعا میں دعا کر رہے تھے اوپر مولوی صاحب نے اپنے لئے دعا کا کمرہ بنواب ہو ا تھا۔مولوی صاحب کہتے ہیں مجھے ایسی آواز نیچے سے آئی جس طرح کوئی عورت دردِ زہ میں مبتلا ہو