خطبات محمود (جلد 18) — Page 157
خطبات محمود۔سال ۱۹۳۷ء جانے کیلئے تیار ہیں صرف ایک ہماری عاجزانہ التماس ہے اور وہ یہ کہ سُنا ہے پٹھان سخت وحشی ہوتے ہیں آپ ہمارے ساتھ کچھ سپاہی کر دیں جو ہماری جانوں کی حفاظت کریں۔تم بھی خدا کے سپاہی کہلاتے ہو مگر انگریزی سپاہیوں کے پہرے میں کام کرنا چاہتے ہو۔پھر تم سے زیادہ بے غیرت اور کون ہوسکتا ہے۔اس وقت تم سب اس مثال کے سننے پر ہنس پڑے ہو مگر کیا تمہاری بھی یہی حالت نہیں۔تم کہتے ہو دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہیں مگر انگریزی سپاہیوں کی حفاظت میں۔اگر ی واقعہ میں تم خدا تعالیٰ کے سپاہی ہو اور اُس کے دشمن کے مقابل پر کھڑے ہو تو پھر تمہیں کسی حفاظت کی ضرورت ہی کیا ہے۔تم میرے بتائے ہوئے طریق کے ماتحت صبر اور شکر کرو پھر خدا تعالیٰ کے سپاہی آپ تمہاری مدد کیلئے آسمان سے اُتریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایک دفعہ ایک مقدمہ ہوا۔جس مجسٹریٹ کے پاس وہ کی مقدمہ تھا اُس پر لاہور کے بعض آریوں نے سخت زور ڈالا کہ جس طرح بھی ہو سکے تم کسی نہ کسی طرح کی مرزا صاحب کو سزا دے دو اور اس قدر اصرار کیا کہ آخر اس نے وعدہ کرلیا کہ میں کچھ نہ کچھ سزا انہیں ضرور دے دوں گا۔ایک ہندو دوست جو اس مجلس میں موجود تھے انہوں نے یہ تمام حالات ایک احمدی وکیل کے پاس بیان کئے اور کہا کہ میں خود اس مجلس میں موجود تھا آریوں نے بہت اصرار کیا اور آخر مجسٹریٹ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ میں ضرور حضرت مرزا صاحب کو کچھ نہ کچھ سزا دے دوں گا۔وہ احمدی وکیل گھبرائے ہوئے گورداسپور آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُن دنوں گورداسپوری میں ہی تھے میں وہاں موجود نہیں تھا لیکن جو دوست وہاں موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب اُس دوست نے آکر ذکر کیا کہ حضور ! ہمیں کوئی فکر کرنا چاہئے اس مجسٹریٹ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ آپ کو ضروری سزا دے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی۔آخر انہوں نے دوبارہ اور سہ بارہ یہی بات دہرائی اور کچھ اور دوست بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور سب نے کہا کہ کی اب ضرور کوئی فکر کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُس وقت لیٹے ہوئے تھے۔آپ نے جب متواتر یہ بات سنی تو آپ نے چار پائی سے سر اٹھایا اور لیٹے لیٹے گھنی پر ٹیک دے کر بڑے جلال سے فرمایا وہ مجسٹریٹ ہوتا کیا چیز ہے وہ خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال کر تو دیکھے۔پس کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر خدا تمہارے ساتھ ہو تو یہ مجسٹریٹ اور افسر اور پولیس کے آدمی تمہیں