خطبات محمود (جلد 18) — Page 150
خطبات محمود۔ܙ سال ۱۹۳۷ء رہتے ہیں۔ایک وقت مسلمانوں کی طرف سے شور مچایا جاتا ہے اور پھر یک دم اس میں تغیر آ جاتا ہے اور ی پولیس کی طرف سے شور اٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔پھر یکدم یہ حالت بھی بدل جاتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہماری لڑائی نہ مسلمانوں سے ہے نہ پولیس سے بلکہ سکھوں سے ہے۔پھر سکھوں سے لڑتے لڑتے یکدم تغیر آجاتا ہے اور سکھ تو بالکل خاموش ہو جاتے ہیں اور ہند و شور مچانا شروع کر دیتے ہیں اور ان لڑائیوں میں سے کسی لڑائی کے پیدا کرنے میں بھی ہمارا دخل نہیں ہوتا۔جس وقت مسلمان شور مچار ہے ہوتے ہیں اُس وقت کوئی ایسی حرکت ہم نے نہیں کی ہوتی جو پندرہ بیس سال پہلے ہم نے نہ کی ہو۔گویا کوئی تازہ حرکت ایسی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ہم سمجھیں کہ ان کا شور مچانا حق بجانب ہے۔اسی طرح جب پولیس کی طرف سے شور مچایا جاتا ہے تو ہماری کوئی ایسی حرکت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ اشتعال میں آئے۔پھر جب سکھ اور ہند و شور مچاتے ہیں اُس وقت بھی کوئی ایسا نیا فعل ہم سے صادر نہیں ہوتا جس کی وجہ سے سمجھا جائے کہ ان کا شور اور فتنہ وفساد کی بنیاد پر ہے۔پس کیا اس محاذ کی تبدیلی سے تمہاری سمجھ میں اتنی موٹی بات بھی نہیں آتی کہ یہ کسی سازش اور چالا کی کا نتیجہ ہے۔اگر تم بات کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتے اور نہ تمہیں وسیع علم ہے اور نہ وسیع معلومات کے ذرائع تمہیں حاصل ہیں تو کم سے کم اتنی بات تو تمہیں سمجھ لینی چاہئے تھی کہ کیوں بلا وجہ ایک وقت مسلمانوں کو جوش آتا ہے تو دوسرے وقت پولیس والوں کو۔کبھی سکھوں کو جوش آجاتا ہے تو کبھی ہندوؤں کو۔کم سے کم اتنی موٹی بات تمہیں سمجھ لینی چاہئے تھی کہ یہ تغیرات جو پیدا ہوئے ان کا کوئی نہ کوئی سبب ہوگا ورنہ بلا سبب تو یہ نہیں ہو سکتے اور جب یہ بلا سبب نہیں ہو سکتے اور تمہیں ان کا سبب معلوم نہیں تو تم کیوں اندھیرے میں چھلانگ لگاتے اور سلسلہ کی بدنامی اور ہتک کا موجب بنتے ہو۔یہ معاملات اُن لوگوں کے ہاتھ میں چھوڑ دو جو ان تغییرات کا سبب جانتے اور اس کی وجہ کو خوب پہچانتے ہیں۔وہ جب دیکھیں گے کہ سلسلہ کی عظمت لڑائی کرنے میں ہے تو ی اُس وقت وہ بغیر کسی قسم کے خطرہ کے لڑائی کریں گے اور اُس وقت تم میں سے وہ لوگ جو اس وقت بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے اور کہتے ہیں ہم صبر نہیں کر سکتے ، ہم دشمن سے لڑیں گے اور مر جائیں گے وہ لڑائی کرنے سے انکار کر دیں گے اور کہیں گے کہ ہم ہلاکت کے منہ میں اپنے آپ کو نہیں ڈال سکتے۔گویا جس وقت ہم کہتے ہیں ہمیں صلح رکھنی چاہئے اور بلا وجہ دشمن سے لڑائی نہیں لڑنی چاہئے اُس وقت وہ بُزدل اور منافق جو اگر لڑائی ہو تو سب سے پہلے میدانِ جنگ سے بھاگ نکلیں گے۔کہتے ہیں ہم بے غیرت نہیں ، ج