خطبات محمود (جلد 18) — Page 142
خطبات محمود ۱۴۲ سال ۱۹۳۷ء کیلئے کرتے ہیں اور عام لوگ اپنے لئے کرتے ہیں۔پس اگر کسی شخص کو یہ احساس پیدا ہو جائے کہ میں واقعہ میں کمزور ہوں تو ایسا انسان گمراہ ہو نہیں سکتا۔انسان گمراہ اُس وقت ہوتا ہے جب وہ یقین رکھتا ہے کہ میں حق پر ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت معاویہ کی نماز کا واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ان سے ایک مرتبہ فجر کی نماز قضا ہو گئی لیکن وہ اس غلطی کے نتیجے میں نیچے نہیں گرے بلکہ ترقی کی۔پس جو گناہ کا احساس کرتا ہے وہ گناہ سے بچتا ہے۔جب گناہ کا احساس نہیں رہتا تو انسان معصیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔پس مومن کو اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ پر غور کرنا چاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ وہ خطرات سے محفوظ نہیں ہوا۔صرف اُسی وقت محفوظ ہو سکتا ہے کہ جبکہ خدا کی آواز اُسے کہہ دے۔پس انسان کو اپنے نفس کی کمزوری کا محاسبہ کرنا چاہئے۔ایسے شخص کیلئے روحانیت کے راستے کھل جاتے ہیں۔جو ایسا نہیں کرتا اُس کیلئے روحانیت کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور ایسا انسان گمراہ ہو جاتا ہے۔(ماخوذ از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ ) یہ غیر مطبوعہ خطبہ ہے۔الفاتحه : ۶