خطبات محمود (جلد 17) — Page 749
خطبات محمود ۷۴۹ سال ۱۹۳۶ طرح ۲۵ فیصدی زیادتی ہوگئی ہے۔پھر اس سال جلسہ سالانہ کے چندہ کے علاوہ مساجد اور مہمان خانہ کیلئے بھی چندہ جمع کیا جاتا رہا ہے اور یہ چندہ بھی پہلے سالوں میں نہیں تھا۔علاوہ ازیں اس سال تحریک جدید کے چندہ کے متعلق میں نے تحریک کی ہے کہ دوست پہلے سالوں سے زیادہ کی دیں اور گو یہ تحریک اختیاری ہے لیکن پھر بھی جماعت کی ایک معقول تعداد اس میں حصہ لیتی ہے اور کی جماعت کے ایک حصہ کی مالی حالت پر ضرور اس کا اثر پڑتا ہے اور ایسے دوستوں سے جب خواہش کی گئی ہے کہ وہ پہلے سالوں سے زیادہ چندہ دیں تو جو لوگ اس پر لبیک کہیں گے یقیناً ان کے ال پر پہلے سے زیادہ بوجھ پڑے گا۔غرض اس سال کئی تحریکیں اکٹھی جمع ہوگئی ہیں اور یہ سال ہماری جماعت کیلئے ایک خاص آزمائش کا سال ہے۔پس میں ڈرتا ہوں کہ جماعت کے بعض دوست اس خیال سے کہ مالی بوجھ کی اس سال ان پر بہت زیادہ پڑا ہے جلسہ سالانہ کے موقع پر آنے میں کوتاہی کر جائیں۔پس میں دوستوں کو کہتا ہوں کہ وہ اس سال کو اپنا ایک ابتلائی سال سمجھ لیں کہ جس میں خدا تعالیٰ نے انہیں خصوصیت سے زیادہ قربانیاں کرنے کا موقع دیا ہے اور خیال رکھیں کہ جہاں انہوں نے باقی قربانیاں کی ہیں وہاں ایک قربانی یہ بھی کر لیں کہ جلسہ سالانہ میں شامل ہوکر ان دنوں کے فیوض و برکات سے حصہ لیں سوائے اُن لوگوں کے جو اہم مجبوریوں کی وجہ سے نہ آسکیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری جماعت کے سارے لوگ جلسہ سالانہ میں شامل نہیں ہو سکتے لیکن کچھ تعداد ایسے لوگوں کی ضرور ہے جو ہر سال جلسہ سالانہ کے موقع پر آتے ہیں اور باقی لوگ ایسے ہیں جن میں سے باری باری ہر سال ایک دو فیصدی آجاتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ ضرورت کے موقع پر سلسلہ کے لئے زائد بوجھ اُٹھانے والے زیادہ تر وہی لوگ ہوتے ہیں جو پہلے سے ہی زیادہ کی قربانیاں کر رہے ہوتے ہیں۔مثلاً اگر چندوں کی زیادتی کی فہرست دیکھی جائے اور ان لوگوں کی فہرست دیکھی جائے جنہوں نے اپنی وصیت میں اضافہ کیا تو معمولی نظر سے ہی معلوم ہو جائے گا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے چندہ تحریک جدید بھی زیادہ دیا ہے۔در حقیقت قربانی کی بھی ایک روح ہوتی ہے جس میں پیدا ہو جائے اس سے سب کام کر لیتی ہے۔دل کی رگرہ جس وقت اللہ تعالیٰ کھول دیتا ہے تو پھر اس کا نشان ہر جگہ مل جاتا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے خدا تعالیٰ کی