خطبات محمود (جلد 17) — Page 7
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء کی تحریک ہونے پر اس میں دیر نہیں کرنی چاہئے باقی جماعتیں یکم اپریل تک ایسی فہرستیں بھجوا دیں۔یہ دو تو مذہبی باتیں ہیں اس کے علاوہ ایک اقتصادی بات ہے۔جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں اس سال کیلئے ایک پروگرام بریکاری کے دُور کرنے کیلئے بھی میرے مد نظر ہے۔اس کے متعلق بہت سے مشورے حاصل ہو چکے ہیں اور سب سے پہلے اس کے ماتحت قادیان میں کام شروع کیا جائے گا جو امید ہے کہ جنوری کے آخر یا فروری تک ہو جائے گا۔اس کے متعلق اور بھی جو دوست مشورے بھیج سکیں وہ جلد بھیج دیں اور جہاں کی جماعتیں اپنے طور پر کوئی ایسے کام جاری کی کر سکتی ہوں وہ کر دیں۔اس کے ساتھ ہی تمدنی لحاظ سے ایک اور بات بھی ہے جو زیادہ تر قادیان کے لوگوں سے تعلق رکھتی ہے اگر چہ باہر کے لوگوں کیلئے بھی ہے اور وہ یہ کہ یہاں جو لوگ باہر سے آتے ہیں اُن کو بالخصوص عورتوں اور بیماروں کو سڑکوں کی خرابی کی وجہ سے محلوں تک پہنچنے میں بہت تکلیف ہوتی ہے۔اب کے بعض لوگوں نے تجویز کی ہے کہ اگر دو ہزار روپیہ ہو تو اسٹیشن سے محلہ تک پختہ سڑک بن سکتی ہے اس کیلئے بھی طوعی طور پر جو دوست ایک آنه، دوآنه، روپیه، دور و پیه یا پیسه دو پیسہ ہی یکدم یا ماہوار دے سکتے ہوں دیتے رہیں تو اگلے سالانہ جلسہ تک یہ سڑک بن سکتی ہے اس طرح مسافروں کیلئے بہت سہولت ہو جائے گی اور محلہ تک پہنچنے میں آسانی ہوگی۔اس کے بعد پھر تھوڑا سا فاصلہ گھروں تک پہنچنے کا رہ جائے گا جو اللہ تعالیٰ جب چاہے گا بعد میں بن جائے گا۔اس کے بعد میں اس امر کا ذکر کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ گزشتہ سال ہمارے بعض اختلافات حکومت اور احرار دونوں سے ہو گئے تھے جن کے متعلق میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ وہ اب تک قائم ہیں اور احرار سے اُس وقت تک قائم رہیں گے جب تک وہ اپنی غلطی کو تسلیم نہ کریں اور یہ مان نہ لیں کہ جتھے بنا کر اقلیتوں کو ڈرانا اور مرعوب کرنا غلط طریق ہے۔جب تک وہ ایسا نہ کریں جماعت کا فرض ہے کہ ہر جائز ذریعہ سے ان کا مقابلہ کریں اور ان کی مذہبی ، اقتصادی اور سیاسی طاقت کو توڑیں۔میں جماعت کے تمام افراد کو توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کامیابی کا اصول یہ مقرر کیا ہے کہ سب جماعت اپنی توجہ کو اس کام کی طرف پھیر دے جس کا وہ ذمہ اُٹھائے۔چنانچہ فتح مکہ کی طرف اشارہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ جہاں بھی ہو اور