خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 643 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 643

خطبات محمود ۶۴۳ سال ۱۹۳۶ اُٹھا کر سکھ قوم کو ان کے گرو کے عقیدہ کی طرف توجہ دلائی۔پس جو کام حضرت باوا صاحب نے کیا نہایت پر حکمت اور با موقع اور برمحل تھا لیکن اگر اسی قسم کا چوغہ پہن کر اب میں پھرنے لگوں یا سلسلہ کا کوئی عالم اس قسم کا چوغہ پہن کر پھرنے لگے تو یہ خلاف و قار فعل ہوگا کیونکہ جب قرآن کریم کی انہی آیتوں کو ہم لوگوں کے سامنے پیش کر سکتے اور ان کے مطالب سے انہیں آگاہ کر سکتے ہیں تو ان آیتوں کو ایک چوغہ پر لکھوا کر پہنے کا کیا مطلب۔لیکن اگر ایک گونگا جو بول نہیں سکتا یا ایسا شخص جس میں تقریر کرنے کا ملکہ نہیں جو ان پڑھ ہے اور لوگوں سے گفتگو کرنے میں جھجھک محسوس کرتا ہے وہ اگر کہتا ہے کہ لاؤ مجھے کسی کوٹ پر قرآن کریم کی چند آیتیں جن سے سلسلہ کی صداقت ثابت ہوتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی ثابت ہوتا ہے لکھ دو تا کہ میں اسے پہن کر لوگوں میں پھرتا رہوں اور تا اگر میں زبان سے تبلیغ نہیں کر سکتا تو کم از کم اپنے کوٹ سے ہی لوگوں کو تبلیغ کروں تو کوئی شخص اس کے فعل کو لغو یا خلاف وقار قرار نہیں دے گا لیکن یہ فعل میرے لئے لغو ہو گا کیونکہ میں زبان سے لوگوں کو سمجھا سکتا ہوں۔غرض میں یا سلسلہ کا کوئی اور عالم اس قسم کا چوغہ پہن لے تو یہ وقار کے خلاف فعل ہوگا لیکن اگر ایک ان پڑھ اس قسم کا چوغہ پہنتا ہے جو زبان سے تبلیغ کرنے کا ملکہ اپنے اندر نہیں رکھتا تو اس کا یہ فعل جائز ہوگا بشرطیکہ وہ اس قسم کا چوغہ پہن کر ان لوگوں کے سامنے جائے جن کو سمجھا نا اُس کے مدنظر ہے لیکن اگر وہی شخص اس قسم کا چونہ پہن کر اس مسجد میں آجاتا ہے تو چونکہ اس مسجد میں اس قسم کا چونہ پہن کر آنے کا کوئی فائدہ نہیں اِس لئے اُس کا یہ فعل خلاف محل ہونے کی وجہ سے وقار کے خلاف ہوگا اور یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی شخص جوتی اپنے سر پر رکھ لے یا ٹوپی پاؤں میں ڈال لے۔جس طرح جوتی کا سر پر رکھنا یا ٹوپی کا پاؤں میں ڈال دینا خلاف وقار امر ہے اسی طرح جب کوئی شخص اس قسم کا چوغہ یا اس قسم کی ٹوپی پہن کر جس پر لوگوں کو متوجہ کرنے کیلئے بعض فقرات لکھے ہوئے ہوں اپنی مسجد میں آتا یا اپنے لوگوں میں ہی پھرتا رہتا ہے تو وہ وقار کے خلاف فعل کرتا ہے۔غرض ضرورت کے مطابق بات کرنا اور دانائی اور حکمت سے کام لینا وقار ہے۔اس تعریف کے بعد جیسی جیسی ضرورت بدلتی جاتی ہے وقار والے افعال بھی بدلتے جاتے ہیں مگر ان سب میں اصل وہی کام کرتا ہے جو میں نے بیان کر دیا ہے اگر ایسا کام کیا جائے جو با موقع اور