خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 640 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 640

خطبات محمود ۶۴۰ سال ۱۹۳۶ کرتا ہے اتفاق پر دلالت نہیں کرتا۔اب دیکھ لو ادھر انسان دنیا میں پیدا کیا گیا اور اس کے چہرہ پر آنکھیں پیدا کی گئیں اور اُدھر کروڑوں میل پر ایک سورج بنادیا گیا کیونکہ آنکھ بغیر روشنی کے نہیں دیکھ سکتی تھی۔مگر کیا کروڑوں میل پر ایک سیارہ کا بنایا جانا اور اس غرض کیلئے بنایا جانا کہ تا انسان دیکھے اور دنیا میں کام کاج کرے اتفاقی امر ہے؟ یہ تو اتفاق مانا جا سکتا تھا کہ اس دنیا میں انسان کی آنکھ بن گئی مگر آنکھ کے بننے کے ساتھ کروڑوں میل پر ایک سورج کا بن جانا کس طرح اتفاق ہو گیا۔اس سے تو صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اتفاق نہیں بلکہ ایک مقتدرہستی نے پالا رادہ انہیں بنایا ہے۔پھر انسانی زندگی کے قیام کیلئے جیسا کہ دن کی ضرورت تھی ایسا ہی رات بھی ضروری تھی اس کیلئے خدا نے تاریکی پیدا کر دی مگر اسی کے ساتھ ہی ہلکی روشنی کی بھی انسان کو ضرورت تھی جس کیلئے خدا تعالیٰ نے سورج کے مقابلہ میں ذرا قریب کر کے ایک چاند بنادیا جو سورج سے ہی روشنی لیتا ہے اس چاند کی روشنی سے فصلیں پکتی ہیں اور انسان کی صحت کو کئی لحاظ سے فائدہ پہنچتا ہے اب یہ اتفاق کس طرح ہو گیا کہ ادھر آنکھ بنی اور اُدھر چونکہ وہ بغیر سورج کی روشنی کے کام نہیں دے سکتی تھی اس لئے سورج بن گیا۔پھر یہ امر د یکھتے ہوئے کہ بعض دفعہ سورج کی روشنی کیلئے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ براہِ راست نہ پڑے بلکہ چھن کر پڑے اتفاقی طور پر ایک اور سیارہ بن گیا جو رات کے وقت روشنی دینے لگا۔غرض تمام کائنات عالم پر جب غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ساری دنیا ایک قانون کے ماتحت چل رہی ہے اور اسے کوئی ہوشمند انسان اتفاق نہیں کہ سکتا۔پس حضرت نوح علیہ السلام یہ دلائل دے کر ان لوگوں کو بتاتے ہیں کہ تمہاری پیدائش لغو اور عبث نہیں بلکہ تمہیں ایک خاص مقصد کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے آخر تم اپنے آپ کو عقلمند سمجھتے ہو یا نہیں سمجھتے۔اگر سمجھتے ہو تو کیا اسی لئے نہیں کہ تم حکمت کے ماتحت کام کرتے ہو پھر جب تم اپنے متعلق یہ خیال کرتے ہو کہ تم ہمیشہ حکمت کے ماتحت کام کرتے ہو تو تم یہ کس طرح خیال کر سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ نے یہ کام حکمت کے ماتحت نہیں کیا اور اُس نے یونہی انسانوں کو پیدا کر دیا ہے۔آخر تم بڑوں کو کیوں بڑا کہتے ہو اسی لئے کہ تم سمجھتے ہو کہ وہ سمجھدار تھے اور ان کا حق ہے کہ انہیں بڑا کہا جائے۔پھر اگر تمہارے باپ دادا اپنے چند سالوں کے کاموں کی وجہ سے سمجھدار بن گئے اور تمہارے لئے ضروری ہو گیا کہ تم ان کے