خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 616

خطبات محمود ۶۱۶ سال ۱۹۳۶ جھوٹ ہو جائے گا۔پنجاب کے بعض افسروں کا اس معاملہ میں دخل ضرور ہے مگر اسی پنجاب میں بیسیوں انگریز افسر ہیں جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔مثلاً فیروز پور ، جھنگ، ملتان اور دوسرے کئی ضلعوں کے انگریز افسروں کا اس سے کیا تعلق ہے؟ پھر ساری پنجاب گورنمنٹ کا بھی اس میں دخل نہیں کسی ایک حصہ کا ہے۔پس میں نہیں سمجھ سکتا کہ بعض مقرروں نے یہ کس طرح کہہ دیا کہ ہم برطانیہ سے ناراض ہیں۔برطانیہ پر بھی ہم نے حجت پوری نہیں کی جب تک ہم اس پر حجت پوری نہ کرلیں ہمارا ہر گز یہ حق نہیں کہ ہم اپنی ناراضگی کو وسیع کریں۔ہماری ناراضگی ان افسروں پر ہے جن پر حجت تمام ہو گئی ہے مگر انہوں نے ہمارے نقصانات کے ازالہ کی کوئی پروا نہیں کی لیکن اگر ہم حجت پوری کر دیں تب بھی برطانیہ کے وہ شریف آدمی جن کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تعریف کی ہے ہم ان کی کس طرح مذمت کر سکتے ہیں۔بھلا کرنل ڈگلس کی موجودگی میں ہم انگریزی قوم کی کس طرح مذمت کر سکتے ہیں یا سرابٹسن سابق لیفٹینٹ گورنر جیسے آدمی جس قوم میں ہوں کی اس قوم کی ہم کس طرح مذمت کر سکتے ہیں۔یہ گورنر ہو کر جب پنجاب میں آئے تو آتے ہی انہیں سرطان کا مرض لاحق ہو گیا ڈاکٹروں نے انہیں کہہ دیا کہ وہ جلدی مر جائیں گے چنانچہ چھ ماہ کے بعد وہ مر گئے۔جب یہ پنجاب میں آئے تو انہوں نے آتے ہی ایک نوٹ لکھا جس کی اُسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اطلاع ہو گئی۔غالبا ۱۹۰۷ ء کے آخر کی بات ہے انہوں نے اس نوٹ میں لکھا کہ جماعت احمد یہ ایک نہایت ہی وفادار جماعت ہے لیکن ہماری گورنمنٹ اسے ہمیشہ شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہے اگر میں زندہ رہا تو پہلا کام یہ کروں گا کہ اس ظلم کو دور کروں۔اس قسم کے شریف الطبع لوگوں کی موجودگی میں ہم ساری انگریزی قوم کو کس طرح بُرا کہہ سکتے ہیں بلکہ آج بھی ایسے انگریز موجود ہے جو ہم سے ہمدردی رکھتے ہیں۔پس پنجاب گورنمنٹ کو بھی ہم بُرا نہیں کہہ سکتے صرف اُن افسران کو بُرا کہہ سکتے ہیں جن سے ہمیں نقصان پہنچا۔پس اپنے شکوے کو وسیع نہ کرو اور ساری برطانوی حکومت کو الزام نہ دو۔۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض مقرروں نے کہا ہے کہ برطانوی نمائندوں نے ہمارے مبلغین کی کبھی مدد نہیں کی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مولوی جلال الدین صاحب شمس کی انہوں نے مدد میں کی لیکن بعض برطانوی نمائندوں نے مدد کی بھی ہے۔مثلاً روس میں جو ہمارے مبلغین گئے