خطبات محمود (جلد 17) — Page 605
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ ہے کہ وہ دوسروں کے بزرگوں کو گالیاں دیں کیا اس لئے کہ حکومت کے نزدیک احمدیوں کا دل نہیں دُکھ سکتا ؟ میں نے سنا ہے کہ حکومت نے مولوی عطاء اللہ کو قادیان آنے سے روک دیا ہے اگر یہ درست ہے تو اُس نے اچھا کیا کہ ان کو یہاں آنے سے روک دیا لیکن سوال صرف مولوی عطاء اللہ صاحب کی گالیوں کا نہیں بلکہ صرف بزرگان جماعت احمدیہ کو گالیاں دینے کا ہے۔یہاں ہر جمعہ کو جماعت احمدیہ کے بزرگوں کو گالیاں دی جاتی ہیں اور اگر کبھی کوئی پولیس کا سچا ر پورٹر وہاں جاتا ہوگا تو گورنمنٹ کے پاس اس کی ڈائریاں بھی پہنچتی ہوں گی لیکن گورنمنٹ کو کبھی خیال نہیں آیا کہ اس دل آزار طریق کو بند کرے۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ لکھنو میں مدح صحابہ اس لئے جرم قرار دی جاتی ہے کہ اس سے شیعوں کی دل آزاری ہوتی ہے لیکن احمد یہ جماعت کے مرکز ، اس کے مقدس مقام قادیان میں ست بزرگانِ احمدیت کو بھی جرم نہیں سمجھا جاتا۔آخر یہ قانون کس عقل کے ماتحت بن رہے ہیں؟ اگر یہاں احرار کی بد زبانی کو روکنا نا جائز ہے تو لکھنو میں سنیوں کو مدح صحابہؓ سے روکنا اس سے بھی زیادہ ناجائز ہے اور اگر وہاں سینیوں کو مدح صحابہ سے روکنا جائز ہوسکتا ہے تو قادیان میں احمدیوں کے بزرگوں کے خلاف گالیوں کو روکنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ وہاں صحابہ کی تعریف کا سوال ہے جس سے دل دُکھنا خلاف عقل ہے اور یہاں جماعت احمدیہ کے بزرگوں کی تو ہین کا سوال ہے جس سے دل دُکھنا ایک طبعی امر ہے۔پس حکومت کو چاہئے کہ اپنے افعال کے اس تضاد کو دُور کرے۔کہا جا سکتا ہے کہ وہ حکم لکھنؤ کا ہے جو یو۔پی میں ہے اور قادیان پنجاب میں ہے۔بیشک یہ درست ہے لیکن قانون کا اصل تو ایک ہی ہونا چاہئے آخر یو۔پی کے افسر بھی تو انگریز ہی ہیں۔غرض اگر گورنمنٹ نے مولوی عطاء اللہ صاحب کو روکا ہے تو اس کا یہ فعل مستحسن ہے لیکن یہ فعل اسے کلی طور پر الزام سے بری نہیں کرتا کیونکہ گالی مولوی عطاء اللہ صاحب کے منہ سے نکل کر زیادہ بُری نہیں ہو جاتی اور کسی دوسرے احراری کے منہ سے نکل کر گالی اچھی نہیں ہو جاتی بلکہ گالی بہر حال بُری چیز ہے اور یہ تو ابتدائی اخلاق کا تقاضا ہے کہ لوگوں کو گالی دینے سے روکا جائے اس معاملہ میں چھوٹے اور بڑے میں فرق نہیں کیا جاسکتا۔