خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 601

خطبات محمود ۶۰۱ سال ۱۹۳۶ اگر پولیس کے سپرنٹنڈنٹ یا ڈپٹی کمشنر یا کمشنر یا گورنر کی موٹر پر ایسا ہی دھما کہ ہو اور وہ کہیں کہ یہ اتفاقی امر ہے کسی بچہ سے کوئی چیز گر پڑی ہوگی تو میں ان کی بات کو ماننے کیلئے تیار ہوں لیکن وہاں وہ یہ نہیں کہتے بلکہ وہاں ان کا رویہ بالکل مختلف ہوا کرتا ہے۔ان کا قول ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ہم راجہ کے نوکر ہیں بینگن کے نو کر نہیں۔بعض پولیس کے آدمیوں میں سے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ ساری بات ہی بنائی ہوئی ہے واقعہ کوئی ہوا ہی نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ہر شخص اپنے ظرف کے مطابق بولتا ہے جو شخص جھوٹ کا عادی ہو اور جس کا اوڑھنا اور بچھونا جھوٹ ہو وہ کسی بات کو سوائے جھوٹ کے اور کیا سمجھ سکتا ہے۔اس قسم کے افسر سوائے اس کے کہ پبلک کو حکومت سے بدظن کریں اور اس کے خلاف منافرت کے جذبات پھیلائیں کسی صورت میں گورنمنٹ کی خدمت نہیں کر سکتے۔غرض دونوں طرف خیالات کی روکو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ایک ہمارے دوست تو اس واقعہ کو سن کر ایسے متاثر ہوئے کہ کہنے لگے ایسی بات تو نہیں کہ کوئی پٹاخہ وغیرہ کی پھینکا گیا ہو میں نے انہیں بتایا کہ پٹانے کی آواز اور اس آواز میں بہت فرق ہوتا ہے۔مجھے یہ ڈر پیدا ہوا کہ آہستہ آہستہ بعض دوست محبت کے جوش میں کہیں اس چیز کو ہم ہی نہ سمجھے لگیں۔اس موقع پر بعض جلسے قادیان میں ہوئے ہیں اور بعض دوستوں نے تقریریں کرتے ہوئے کہا کہ ہم یوں کریں گے اور ڈوں کر دیں گے اس پر بعض دوستوں نے اعتراض کیا ہے کہ ایسا کہنے کا کیا فائدہ کہ ہم یوں کر دیں گے ؤوں کر دیں گے۔جب کرنے کا وقت آئے اُس وقت جو کچھ کرنا ہو کر دکھا ئیں بے فائدہ دعوؤں سے کیا فائدہ اور میں اس بات میں ان سے بالکل متفق ہوں۔میں نے بارہا جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ بیہودہ دعوے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔جماعت کا اظہار ا خلاص ایک طبعی بات ہے اور وہ جس محبت کا نتیجہ ہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا وہ ایک قابل قدر چیز اور ایمان کو بڑھانے والی بات ہے لیکن ایسی باتیں کرنا جن کے متعلق انسان کے ذہن میں کچھ بھی نہ ہو کہ کیا کر دیں گے ایک بے فائدہ چیز ہے۔پس جس حد تک کہ دوستوں نے اپنے اخلاص کا اظہار کیا یا ریزولیوشن کے ذریعہ اپنے آپ کو خدمت کیلئے پیش کیا ہے وہ بالکل جائز اور درست بلکہ موجب ثواب تھا لیکن اس سے زائد اگر کسی نے دھمکیاں دی ہوں تو ان سے کسی کو بھی فائدہ نہیں ہوسکتا بلکہ دھمکیاں بھاپ کی طرح انسان کے جوش کو نکال دیتی ہیں۔