خطبات محمود (جلد 17) — Page 591
خطبات محمود ۵۹۱ سال ۱۹۳۶ ہاں لڑکا پیدا ہو گیا۔جب وہ لڑکا جوان ہوا تو باپ نے کہا کہ اب تک تو میں برہما کی عبادت کرتا رہا ہوں مگر موت چونکہ شیو جی کے ہاتھ ہے اس لئے ہمیں اب اس کی عبادت کرنی چاہئے ایسا نہ ہو کہ وہ تجھے مار دے مگر بیٹا اس بات کا سخت مخالف تھا اور اسے احسان فراموشی قرار دیتا تھا۔یہ اختلاف آپس میں اس قدر بڑھا کہ باپ نے غصہ میں آکر شیو جی سے درخواست کی کہ اس کے بیٹے کو ماردے چنانچہ بیٹا مر گیا۔برہما کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے کہا کہ اچھا یہ ہماری عبادت کی وجہ سے مارا گیا ہے اُس نے پھر اُسے پیدا کر دیا۔شیو جی نے پھر ماردیا اور برہمانے پھر پیدا کر دیا اور دونوں میں یہ لڑائی شروع ہوگئی۔تو یہ یوں تو لطیفہ ہے مگر حقیقت سے خالی نہیں۔دراصل شیو انسان خود ہوتا ہے اور برہما خدا ہوتا ہے۔جب انسان اللہ تعالیٰ کیلئے اپنے آپ کو مارتا ہے تو خدا تعالیٰ اُسے پھر پیدا کر دیتا ہے۔دیکھو صحابہ نے کتنی دفعہ اپنے آپ کو مارا اور کتنی دفعہ خدا تعالیٰ نے اُن کو زندہ کیا۔جب صحابہ بدر کے میدان میں لڑنے گئے تو کیا انہوں نے موت قبول نہ کی تھی ؟ پھر کیا جنگ احد موت نہ تھی ؟ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافق کہتے تھے یہ تو صریح موت ہے اگر ہمیں علم ہوتا کہ لڑائی ہے تو ہم ضرور شامل ہوتے۔پھر کیا احزاب کی جنگ موت نہ تھی ؟ منافق جیسے بُزدل اور موقع پر مسلمانوں کو طعنے دیتے پھرتے تھے کہ پاخانہ پھرنے کیلئے تو جگہ ملتی نہیں اور دنیا کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔پھر کیا غزوہ تبوک موت نہ تھی ؟ پھر آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد عرب میں بغاوت ہو گئی تھی کیا اُس وقت صحابہؓ نے اپنے لئے موت قبول نہ کی تھی ؟ پھر جب حضرت ابو بکر نے قیصر سے مقابلہ شروع کیا تو کیا موت نہ تھی ؟ عرب کی کل آبادی اتنی بھی ان نہیں جتنی فلسطین کی مگر مسلمانوں نے مقابلہ ایسے بادشاہ سے شروع کیا جس کے ماتحت فلسطین تھا، شام تھا ، بلغاریہ، مقدونیہ، مصر، طرابلس، آرمینیا ، اسوریہ کے علاقے بھی تھے گویا اتنی بڑی حکومت سے ٹکر لگائی۔اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایران سے بھی جنگ شروع کر دی اور اُس وقت ایرانی حکومت کے ماتحت افغانستان ، ہندوستان ، چین ، چینی ترکستان اور ایشیائی روس کے علاقے تھے گویا آدھی دنیا پر اسیران کی حکومت تھی اور آدھی دنیا پر روم کی اور مسلمان بہ یک وقت ان دونوں حکومتوں سے لڑ رہے تھے پھر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ موت نہ تھی۔پس غور کرو کہ صحابہ نے کتنی دفعہ اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالا گویا وہ شہد کی مکھیاں