خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 586

خطبات محمود ۵۸۶ سال ۱۹۳۶ کے دل کس قدر خوشیوں سے بھر جاتے ہوں گے اور وہ کس کس رنگ میں مزے نہ لیتے ہوں گے کہ ہماری چھوٹی چھوٹی قربانیاں دنیا میں کتنا عظیم الشان تغیر پیدا کر گئیں اور ہمارا بو یا ہوا چھوٹا سا بیج کیسا عظیم الشان درخت بن گیا یہی حال آئندہ ہونے والا ہے۔ہمارے زمانہ میں یہ باتیں آئیں یا نہ آئیں مگر یہ آکر رہیں گی اور اگر اس دنیا میں ہم نے اِن امور کو پورا ہوتے نہ دیکھا تو ہم آسمان پر سے دنیا کو جھانکیں گے اور دنیا کے تغیرات کو دیکھ کر کہیں گے کہ خدا نے سب کچھ ہمارے ہاتھوں سے کرایا۔اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کوقرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم نے تجھ سے جو وعدے کئے ہیں ان وعدوں میں سے بعض تیری زندگی میں پورے کر دیں گے اور بعض تیری وفات کے بعد پورے کریں گے 21۔یہی حال مؤمن کا ہوتا ہے وہ کچھ امور کو پورا ہوتے اپنی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے اور کچھ امور کے پورا ہونے کو آسمان پر سے جھانک کر دیکھتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کے دیکھنے سے آسمان پر سے دیکھنا کچھ کم حیثیت نہیں رکھتا بلکہ دنیا میں انسان جب ان امور کو دیکھتا ہے تو اُس کے ساتھ بہت سے خطرات بھی لگے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ آئندہ کے حال سے بھی ناواقف ہوتا ہے لیکن آسمان پر بیٹھی ہوئی روح مستقبل سے بھی واقف کی جاتی ہے اور وہ جانتی ہے اُس وسعت کو جو اُس کا لگایا ہوا درخت دنیا میں حاصل کر رہا ہوتا ہے۔پس اپنی ذات کا معاملہ خدا سے درست کر لو دنیا کا معاملہ خدا تعالیٰ خود درست کر دے گا کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے مؤمن کی قربانی کبھی ضائع نہیں ہوتی ، ضائع نہیں ہوسکتی اور ضائع نہیں کی جاتی۔ل المائدة: ۲۵ ( الفضل ۱۹ ستمبر ۱۹۳۶ء ) بخارى كتاب الجهاد والسير باب يقاتل مِنْ وَّرَاءِ الْإِمَامِ وَ يُتَّقَى بِهِ بخاری کتاب الاذان باب إِثْم مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ ترمذی ابواب المناقب باب مناقب ابى بكر الصديق ه المائدة: ١٠٦ وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (یونس: ۴۷)