خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 5

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء یسے ہیں جن تک ابھی یہ خبر نہیں پہنچی بلکہ کافی حصہ ان میں ایسے ممالک کا بھی ہے جن میں اسلام کا نام تو ممکن ہے پہنچ چکا ہو گر تعلیم نہیں پہنچی۔اور میرا پروگرام یہ ہے کہ ہم کوشش کریں کہ ان ممالک ای میں تابعی پیدا کر سکیں۔وہ وقت تو گزر گیا جب ہم ساری دنیا کو صحابی بنا سکتے تھے مگر تابعی بنا سکنے کیلئے ابھی وقت ہے۔صحابہ نے بیسیوں ممالک میں تابعی بنا دیئے تھے اور زبان کے لحاظ سے اگر ممالک کی کی تقسیم کی جائے تو سینکڑوں ممالک میں بنا دئیے تھے۔صحابہ کے زمانہ میں ریل ، تار، ڈاک وغیرہ کی سہولتیں نہ تھیں اور ان کے نہ ہونے کے باوجود جب صحابہ نے اتنا کام کیا تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کے سہولتوں کی موجودگی کے باوجود ہم ان سے زیادہ کام نہ کریں۔قربانی کی قیمت کا اندازہ رستہ کی رکاوٹوں سے کیا جاسکتا ہے۔اگر صحابہ نے دو سو ممالک میں تابعی بنائے تو ہم بھی دوسو ممالک میں تابعی بنا کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کے برابر ہم نے کام کیا ہے اس لئے جب تک ان سے کئی گنا زیادہ کام نہ کریں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے ان کی مشابہت حاصل کر لی۔پس ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہر ملک میں تابعی پیدا کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کو ان تک پہنچا دیں یا ان کو یہاں بلالیں۔اور اگر ہم یہ کر سکیں تو یہ کام اتنا شاندار ہو گا کہ کسی نبی کے زمانہ میں اس کی مثال نہ مل سکے گی۔کیونکہ کوئی نبی یا ماً مور آج تک ایسا نہیں گزرا جس کے تابعی تمام دنیا میں تھے۔یہ ایک ایسی عجیب بات ہے کہ اس کے تصور سے ہی میرا دل مسرت سے بھر جاتا ہے اور بجلی کی رو کی طرف مسرت کی لہر تمام جسم میں دوڑ جاتی ہے۔حضرت مسیح ناصری کے صحابہ شام سے چلے اور کشمیر ی مدر اس تک پہنچے تھے اور ان کا یہ کام اُس زمانہ کے لحاظ سے بہت تھا مگر پھر بھی یہ کچھ نہ تھا۔ہم گو یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ حضرت مسیح ناصری کے کی پیروؤں نے تابعی بنائے یا نہیں لیکن بہر حال اُنہوں نے روم سے لے کر کشمیر تک آپ کا پیغام ضرور پہنچادیا تھا اور باوجود اُن دقتوں کے پہنچا دیا تھا جو اُس زمانہ میں سفر کے رستہ میں تھیں۔لیکن ج ہمیں اس زمانہ میں جو سہولتیں حاصل ہیں وہ اس امر کی متقتضی ہیں کہ ہم ان سے بہت زیادہ کام پس ایک تو دوست دورانِ سال اس امر کو مد نظر رکھیں ، اس کیلئے اپنے آپ کو وقف کریں اور چندہ تحریک جدید پر زور دیں۔گو نقد اور وعدوں کے لحاظ سے تو اس وقت تک یہ چندہ